ایران: شرابیوں کی بحالی کے پہلے سرکاری مرکز کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کی ایک نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ شراب نوشی کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے پہلے سرکاری مرکز نے کام شروع کر دیا ہے۔

ایسنا نیوز ایجنسی کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شراب نوشی سے چھٹکارا دلانے اور اس کے عادی افراد کے علاج کے لیے یہ پہلا بحالی مرکز جامعہ تہران کے کلیہ طبیہ (میڈیکل اسکول) میں کھولا گیا ہے۔

رپورٹ میں ڈاکٹر محمد رضا سرگلزئی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شراب پینے کے عادی ایرانیوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر یہ بحالی مرکز قائم کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایران میں شراب نوشی قانونی طور پر ممنوع ہے لیکن اس کے باوجود اس قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کی جاتی ہے اور ایرانی بہ کثرت شراب پیتے ہیں۔

تاہم سرکاری طور پر شراب کے عادی افراد سے متعلق اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیًں جس سے یہ پتا چل سکے کہ کتنے ایرانی اس لعنت کا شکار ہیں۔فروری 2013ء میں ایران کے پولیس سربراہ اسماعیل احمدی مقدم نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ قریباً دولاکھ افراد ملک بھر میں شراب نوشی کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں