داعش کے زیر نگین علاقوں میں مخلوط تعلیم پر پابندی

جامعات صبح طالبات اور شام میں طلبہ کے کلاس کا اہتمام کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دولت اسلامی عراق و شام [داعش] نے اپنے زیر نگین عراق کے شمالی صوبے موصل کی جامعات کو ہدایت کی ہے وہ مرد اور خواتین طالب علموں کو علاحدہ علاحدہ تعلیم فراہم کرنے کا بندوبست کریں۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ داعش نمائندگان نے جامعات کے اساتذہ اور ڈینز سے ملاقات کی اور بتایا ہے کہ مرد اور خواتین طالب علم ایک کمرے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق انتہا پسند گروپ نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ یکم ستمبر کو شروع ہونے والی کلاسوں میں طالبات کو صبح 9 سے دوپہر دو بجے تک پڑھا جائے گا اور اس کے بعد طلباء کی کلاسیں دوپہر دو بجے سے شام چھ بجے تک ہوں گی۔

داعش نے یونیورسٹی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ پولیٹیکل سائنس اور قانون کے نصاب کو تبدیل کیا جائے۔ ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ آیا داعش نے اس حوالے سے مزید ہدایات جاری کی ہیں یا نہیں۔

تنظیم نے یہ بھی حکم دیا کہ جامعات کے وژیول آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے نام بدل کر ڈیکوریٹو سکیچنگ رکھ دیا جائے۔

رواں سال جولائی میں اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کرنے والی تنظیم داعش نے ایک انتہائی سبک رفتار کارروائی میں عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل اور ایک اندازے کے مطابق تقریبا 33 فیصد شام پر قبضہ کرلیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں جگہ پائی۔

اس سے پہلے جولائی کے وسط میں داعش نے دکانداروں کو حکم دیا تھا کہ وہ دکانوں میں رکھے فیمیل ماڈل مجسموں کے سر ڈھانپیں۔

موصل میں موجود مسیحی داعش کی وارننگ کے بعد شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ داعش نے انہیں کہا تھا کہ یا تو وہ اسلام قبول کر لیں یا جزیہ دیں یا موت کا سامنا کریں۔ مسیحیوں کے علاوہ یزیدی اور شیعہ شہریوں نے بھی داعش کی جانب سے کنٹرول سنبھالنے کے داعش چھوڑ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں