.

"تباہی کا شکار غزہ میں نبی کے جد اکبر آسودہ خاک ہیں"

پیغمبر اسلام کے والد گرامی نے بھی اس شہر کا سفر کیا: العربیہ خصوصی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی اسرائیلی جارجیت کا شکار ہونے کی وجہ سے ان دنوں عالمی شہ سرخیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔تاہم بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے والد گرامی نے اس علاقے کا سفر اختیار کیا اور اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جد اکبر آسودہ خاک ہیں۔

العربیہ ٹی وی نے غزہ کی تاریخی اور اسلامی اہمیت کے حوالے سے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ عالم اسلام کے عظیم فقیہ امام الشافعی کی جائے پیدائش ہے۔ امام شافعی نے غزہ سے قریباً 25 کلومیٹر دور عسقلان کے مقام پر بچپن کے دو برس گزارے اور بعد میں اپنے والد کے ہمراہ مکہ ہجرت کر گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق الکنعانیون نے 3500 برس قبل غزہ کی بنیاد رکھی۔ فلسطین نیشنل انفارمیشن سینٹر کی بیان کردہ معلومات کے مطابق کنعانیوں نے اس جگہ کا نام 'ھزاتی' رکھا۔ فراعنہ نے اس کے لیے 'غزاتو' کا نام تخلیق کیا، پھر الاشوریین اور یونان نے اسے 'عزاتی' اور 'فازا' کا نام دیا جبکہ عبرانیوں نے اسے 'عزہ' اور بالآخر عربوں نے اسے 'غزہ' بنا دیا، جس کا مطلب 'ناقابل تسخیر' بنتا ہے۔ فی زمانہ اسرائیلی ظلم و بربریت کے سامنے ڈٹ کر غزہ کے مظلوم عوام اس کی ناقابل تسخیر حیثیت پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مشہور سیاح ابن بطوطہ نے بھی سنہ 1355 میں شمالی مصر کے شہر الصالحیہ سے نکل کر کئی دن غزہ میں گزارے۔ اپنے ایک سفر نامے میں وہ غزہ سے متعلق رقمطراز ہیں: "ہم الصالحیہ سے چلتے چلتے غزہ پہنچے۔ یہ ملک شام کا پہلا پڑاؤ ہے، اس کے بعد مصر آتا ہے۔ اس میں بہت سی عمارتیں تھیں اور بازار سلیقے سے بنائے گئے تھے۔ غزہ میں بہت سی مساجد تھیں جن پر جنگلے لگے ہوئے تھے۔ یہاں جامع مسجد حسن میں نماز جمعہ ہوتی تھی، اس مسجد کو امیر المعظم الجاولی نے تعمیر کرایا۔ یہ مسجد مضبوط صناعی کی منہ بولتی تصویر تھی جس کا منبر سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا تھا۔

عربوں کے لیے غزہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فتح کیاتھا۔ اس شہر کا اسلام سے پہلے اور بعد کے متعدد واقعات میں مستند ذکر ملتا ہے۔ عرب تجارت کے سلسلے میں یہاں آیا کرتے تھے کیونکہ یہ علاقہ اہم تجارتی روٹ تھا۔ اس شہر کا ذکر دو مشہور سفروں میں ملتا ہے۔ اس سفروں کا ذکر قرآن کی سورہ قریش میں ملتا ہے۔ تجار قریش کا سردی میں یمن کا سفر اور گرمیوں میں ان کا غزہ اور شام کے اردگرد علاقوں کا سفر: "ِلإِيلَافِ قُرَيْشٍ. إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ. فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ. الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآَمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ"۔

گرمیوں میں غزہ کے ایک سفر کے دوران حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جد اکبر ہاشم بن عبد مناف رحلت فرما گئے۔ ہاشمی انہی سے نسبت رکھتے ہیں اور یہ عظیم شخصیت غزہ میں ہی آسودہ خاک ہیں۔ ان کی قبر 'جامع السید ہاشم' میں ہے، جسے شہر کی 'الدرج' کالونی میں مملوک نے بنوایا پھر السلطان عبدالحمید نے سنہ 1850ء میں اسے از سر نو تعمیر کرایا تھا، اسی وجہ سے بعض اوقات علاقے کو 'غزہ ہاشم' بھی کہا جاتا ہے۔