.

اسلام سے برطانوی اقدار کو تقویت ملی: سابق آرچ بشپ

برطانوی ارباب اقتدار دینی تعلیمات سے نابلد ہوتے ہیں: اسلامی میلے میں تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینٹربری کے سابق آرچ بشپ روون ولیمز نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مقیم مسلمان کھلے پن ،دیانت داری اور مشکل عوامی مباحث جیسی روایتی برطانوی اقدار کو بحال کررہے ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سابق آرچ بشپ نے یہ بات لنکن میں منعقدہ''لیونگ اسلام میلے'' میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے بعض میڈیا ذرائع کی جانب سے مسلمانوں کو ''غیربرطانوی'' کے طور پر پیش کرنے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ''برطانیہ میں ارباب اقتدار (حکومتی شخصیات) مذہبی لحاظ سے ناخواندہ ہیں''۔

برطانیہ کی مسلم تنظیموں نے ان کے ان کلمات کا خیرمقدم کیا ہے لیکن سیکولر گروپوں نے انھیں ''احمق'' قرار دے کر ان پر تنقید کی ہے۔روون ولیمز کے بہ قول برطانیہ ایک مدلل جمہوریت ہے جہاں افراد اور طبقات کھلے ،دیانت دارانہ اور مشکل مباحث میں شریک ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کا برطانیہ کے لیے سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ انھوں نے لوگوں کو ان اقدار سے دوبارہ روشناس کرایا ہے۔

برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ولیمز نے اپنی اس تقریر میں یہ کہہ کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے کہ اسلامی قانون کے بعض پہلوؤں کا برطانوی عدالتوں میں اطلاق ناگزیر ہے۔انھوں نے 2012ء میں حجاب کے حق میں ایک بیان دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ حجاب اوڑھنے سے بعض مسلم خواتین کو تقویت ملی ہے۔

اسلاموفوبیا

سابق آرچ بشپ کے اس حقیقت پسندانہ بیان پر بعض سیکولر اور کٹڑ حلقوں کی جانب سے تنقید سے یہ بات عیاں ہے کہ برطانیہ جیسے کھلے معاشروں میں بھی اس طرح کی حق بیانی کو قبول نہیں کیا جاتا ہے اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ان کے دعوے اور نعرے محض کھوکھلے ڈھونگ ہیں کیونکہ اس جمہوریت پسند معاشرے میں بھی مسلمانوں کو قبول نہیں کیا جاتا ہے اور ان سے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت اعلیٰ عہدے دار زیادہ برطانوی بننے کے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔

برطانیہ میں ''اسلامو فوبیا'' کی بنیاد پر روزانہ اوسطا دو حملے ہوتے ہیں ۔گذشتہ جون میں مسلم مخالف حملوں کے شائع ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق ان میں سے زیادہ تر حملوں کا ہدف ان خواتین کو بنایا گیا تھا جنھوں نے روایتی اسلامی لباس پہن رکھا تھا یعنی مکمل حجاب اوڑھے ہوئے تھیں۔

یہ اعداد وشمار سنہ 2013ء میں لندن کی ایک شاہراہ پر دن دہاڑے ایک برطانوی فوجی پر حملے کے بعد گذشتہ نو ماہ کے دوران اکٹھے کیے گئے تھے۔اس واقعہ کے ایک سال کے بعد اس جون میں برطانیہ میں پی ایچ ڈی کی ایک سعودی طالبہ کو دن دہاڑے چاقو گھونپ کر قتل کردیا گیا تھا۔