.

دبئی میں اسلامی تبرکات کی منفرد نمائش کا اہتمام

کعبہ اللہ کے پٹ، غلاف اور مقام ابراہیم زائرین کی خصوصی دلچپسی کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے عظیم کاروباری اور سیاحتی مرکز دبئی میں 'متبرک' چیزوں کی نمائش گذشتہ روز اختتام پذیر ہوئی جس میں کعبہ اللہ کے عثمانی عہد کے چار لہریہ غلاف، بیت اللہ کے دو اصلی پٹ [دروازے] اور مقام ابراہیم کو محفوظ رکھنے والا چار سمیت متعدد دیگر مقدسات شامل نمائش کے لئے رکھی گئی تھیں۔

پورا رمضان اور عید کے ایام میں بھی جاری رہنے والی اس منفرد نمائش کو دیکھنے والوں کی بڑی تعداد کا شوق دیدنی تھا۔ نمائش میں رکھی جانے والے متبرکات کے جمالی حسن اور روحانی معنویت نے پورے ماحول کو ایمان افروز بنائے رکھا۔

نمائش کا اہتمام دبئی کے مرکزی شاپنگ سینٹر 'دبئی مال' میں کیا گیا تھا جہاں رکھے گئے متبرکات کے نمونوں میں تاریخ اور اسلامی ذوق جمالیات کی بھرپور عکاسی نظر آ رہی تھی، ان کی زیارت کرنے والے افراد خود کو اسی دور کی تاریخ میں محسوس کرنے لگے۔

دبئی مال میں سجائی گئی اس نمائش میں کعبہ اللہ کا پندرہ برس پرانا دو پٹوں پر مستقل دروازہ خصوصی توجہ کا مرکز تھا جسے شامی اور مصری فنکاروں نے ہاتھوں سے تیار کیا۔ اس پر کام مصری دارلحکومت قاہرہ میں مکمل ہوا جبکہ اس کا کل وزن ایک من ہے۔

مقام ابراہیم کا کور بھی عثمانی دور کا ہے جسے ریشم سے تیار کیا گیا اور اس پر سونے کے پانی والی دھاگے سے کڑھائی کی گئی تھی، کعبہ شریف میں وقت گذرنے کے ساتھ ہونے والے تبدیلیوں کے نتیجے میں مقام ابراہیم کے گولڈن کور کو تانبے سے تبدیل کر دیا گیا اور فی زمانہ اس کا کور تابنے ہی کا بنا ہوا ہے۔

نمائش کے ایک گوشے میں شام کے خوش نویسوں کے تیارکردہ طغرے موجود تھے۔ ان میں خطاطی کے بعض نمونوں کی عمر ایک سو سال تھی، نیز اسی جگہ خطاطی میں دمشق سکول کے بانی خوش نویس محمد بدوی الدیرانی کے لوحات فن بھی آرٹ سے محبت کرنے والوں کی داد سمیٹ رہے تھے۔

دل موہ لینے والی اس نمائش میں دمشق کے ایک خاندان کے دستی طور پر تیارکردہ آیات قرآنی کے نمونے بھی رکھے گئے تھے جنہیں دلہنوں کو تحفتا پیش کیا جاتا تھا۔ ان چیزوں سے ایک سو بیس برس پرانی تہذیب، رسم و رواج اور عادات نمایاں ہو رہے تھے۔