.

ایردوآن کو صحافیہ کو بے شرم کہنے پر تنقید کا سامنا

ترک وزیراعظم کی انتخابی جلسے میں خاتون رپورٹر کو اپنی اوقات میں رہنے کی تلقین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی جانب سے میڈیا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ جاری ہے۔اس مرتبہ انھوں نے ایک خاتون رپورٹر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اس کو سیدھے سبھاؤ بے شرم عورت قرار دیا ہے اور اس کو تلقین کی ہے کہ وہ اپنی اوقات میں رہے۔

رجب طیب ایردوآن نے یہ کلمات اکانومسٹ اور ترک روزنامے طرف کی لکھاری امبرین زمان کے لیے صدارتی انتخاب کی مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسہ عام کے دوران ادا کیے ہیں۔

اس خاتون رپورٹر نے ٹیلی ویژن پر ایک مباحثے کے دوران اپوزیشن کے مرکزی رہ نما کمال قلیچ دار اوغلو سے پوچھا تھا کہ کیا کوِئی مسلم معاشرہ اس قابل ہے کہ وہ اپنے حکام کو چیلنج کرسکے۔

ایردوآن خاتون رپورٹر کے اس سوال پر آگ بگولہ ہوگئے۔انھوں نے جمعرات کو مشرقی شہر ملاتیہ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران امبرین زمان کا براہ راست نام تو نہیں لیا لیکن انھیں ایک ''بے شرم عورت'' کہہ دیا اور کہا کہ ''وہ ایک صحافیہ کے روپ میں جنگجو ہے۔اس کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے''۔

انھوں نے کہا:''انھوں نے آپ کو قلم دیا،آپ ایک اخبار میں کالم لکھ رہی ہو اور ایک ایسے معاشرے کی توہین کررہی ہو جو 99 فی صد مسلم ہے''۔ترک وزیراعظم کے ان کلمات پر مجمع نے دادوتحسین کے بھرپور ڈونگرے برسائے اور نعرے بازی کی۔

طیب ایردوآن کو خاتون رپورٹر کے خلاف ان کلمات پر صحافیوں ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض مغربی لیڈروں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔وہ اتوار کو ترکی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں فیورٹ ہیں لیکن ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران دنیا کے کسی بھی اور ملک سے زیادہ صحافی حضرات پس دیوار زنداں ڈالے گئے ہیں۔

اکانومسٹ نے ترک وزیراعظم کے مذکورہ الفاظ کے ردعمل مِیں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ''اس کی نمائندہ گذشتہ پندرہ سال سے کام کررہی ہیں اور وہ قابل احترام سمجھی جاتی ہیں۔ہم ان کے اور ان کی رپورٹنگ کے ساتھ کھڑے ہیں۔صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کسی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔مسٹر ایردوآن کے دور حکومت میں ترکی آزاد صحافت کے لیے ایک مشکل جگہ بن گیا ہے''۔

امبرین زمان نے ایردوآن کے بیان کا روزنامہ طرف میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں جواب دیا ہے۔اس کا عنوان ہی اشتعال انگیز ہے:''پہلے انسان بنو''۔انھوں نے کالم میں لکھا ہے:''آپ ایک ایسی مسلم خاتون پر حملہ آور ہوئے ہیں جس نے وہ بیان کیا ہے جو کچھ آپ کررہے ہیں کیونکہ خواتین کو ہدف بنایا جارہا ہے۔کیا ایسا نہیں ہے؟''

اس صحافیہ کا کہنا ہے حکومت کے حامی میڈیا نے ان کے خلاف مذموم مہم شروع کررکھی ہے۔حکومت نواز میڈیا نے انھیں ''یہودی کتیا'' کہا ہے۔واضح رہے کہ ترکی میں صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد مئی میں امریکا میں قائم واچ ڈاگ فریڈم ہاؤس نے اس ملک کا میڈیا کے حوالے سے درجہ ''جزوی آزاد'' سے کم کرکے ''آزاد نہیں'' کردیا تھا۔