گھریلو خاتون ہوں، حکومت سے کوئی تعلق نہیں: بشریٰ اسد

اقتصادی پابندیوں کے خلاف بشار الاسد کی بہن کی درخواست مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یورپی یونین کی لکسمبرگ میں قائم ایک عدالت نے شام کے صدر بشارالاسد کی ہمشیرہ بشریٰ الاسد کی درخواست مسترد کر دی ہے جس میں عدالت سے اپیل کی گئی تھی کہ اسے بشار الاسد خاندان پر عائد اقتصادی پابندیوں سے مستثیٰ قرار دیا جائے کیونکہ بشار الاسد حکومت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔

خیال رہے دو سال قبل یورپی یونین نے شام میں جنگی جرائم کے ارتکاب کی پاداش میں بشار الاسد اور ان کے خاندان سمیت 178 اہم شخصیات کے یورپی ممالک میں سفری پابندیوں کے ساتھ ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیے تھے۔ ان میں صدر اسد کی ہمیشرہ بشریٰ اسد کے بیرون ملک اثاثے بھی شامل تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں بشریٰ الاسد نے یورپی عدالت عالیہ کو ایک درخواست دی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس کا بشارالاسد حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر عائد سفری اور اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں۔

بشریٰ نے اپنی درخواست میں لکھا کہ "بشارالاسد کے ساتھ میرا اتنا تعلق ہے کہ وہ میرے بھائی ہیں، اس کے سوا میرا شامی حکومت سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ میں متحدہ عرب امارات میں اپنے بچوں کے ہمراہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہی ہوں۔ میں صرف ایک خاتون خانہ ہوں اور میری توجہ صرف اپنے بچوں کی کفالت پر مرکوز ہے۔ میرے شوہر آصف شوکت سنہ 2012ء میں شام میں لڑائی کے دوران مارے گئے تھے، جس کے بعد میں نے ملک ہی چھوڑ دیا تھا"۔

یورپی یونین کی عدالت نے بشریٰ الاسد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے سے متعلق ثبوت ناکافی قرار دیے ہیں۔ عدالت نے بشریٰ الاسد کے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے اپنے تازہ فیصلے میں لکھا ہے کہ بشریٰ الاسد، الاسد خاندان اور ان کی حکومت کا حصہ ہیں۔ شام کی حکومت کی جانب سے بشریٰ کو سرکاری طور پر الگ نہیں کیا گیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بشریٰ الاسد اب بھی شامی حکومت کے اہم ارکان میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یورپ کے 18 ممالک نے بشریٰ الاسد پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہین۔ وہ ان ممالک کا سفر کر سکتی ہیں اور نہ ہی وہاں پر موجود اپنے اثاثے واپس لا سکتی ہیں۔

عدالت کا موقف ہے کہ بشریٰ الاسد پر پابندیوں کے لیے اتناہی کافی ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی ہمشیرہ اور حکمراں خاندان کا حصہ ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بشار الاسد کا خاندان ہی اقتدار اور اختیارات کے تمام مراکز پر قابض ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ شام میں برسوں سے ایک ہی خاندان کی حکمرانی کی روایت چلی آ رہی ہے۔ بشریٰ الاسد اپنے خلاف اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کر رہی ہیں بلکہ ان کی تمام ہمدردیاں صدر بشارالاسد کے ساتھ ہیں۔

یورپ کی عدالت نے بشریٰ الاسد کے دلائل ناکافی قرار دیتے ہوئے اس کی درخواست مسترد کر دی تاہم وہ اپنے موقف پر اب بھی قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے میں اس وقت صرف ایک 'ماں' ہوں جو اپنے یتیم بچوں کی کفالت کا بوجھ اٹھائے ایک دوسرے ملک میں مقیم ہوں۔ میری بشار الاسد حکومت کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں۔ میرے بچے متحدہ عرب امارات میں زیر تعلیم ہیں۔ میرے بچوں کے دبئی میں ہونے کایہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم بشار الاسد رجیم کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں امن و امان کی خراب صورت حال اور دیگر اسباب کی متحدہ عرب امارات میں سکونت اختیار کی ہے۔

دبئی کے پولیس چیف جنرل ضاحی خلفان نے بھی حال ہی میں امریکی نشریاتی ادارے"سی این این" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "بشری الاسد ایک کمزور خاتون ہیں۔ ان کے پاس اب کوئی طاقت یا اختیارات نہیں رہے۔ اپنے شوہر آصف شوکت کے قتل کے بعد وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور بہتر کفالت کے لیے دبئی میں قیام پذیر ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں