.

"تن سے جدا گردنیں اٹھا کر پوز بنانے والے وحشی ہیں"

آسٹریلوی وزیر اعظم کا اپنے شہریوں کی 'بہیمانہ' تصویروں پر تبصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہے کہ کم سن بچوں کے ہاتھ میں مقتولین کی گردنوں پر مبنی تصاویر سے شام میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کی بربریت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایک آسٹریلوی میڈیا کے مطابق مسٹر ایبٹ نے یہ تبصرہ ایک تصویر دیکھنے کے بعد کیا جس میں ایک مشتبہ آسٹریلوی شہری کے نو عمر بیٹے نے اپنے ہاتھ میں نامعلوم شخص کا تن سے جدا سر اٹھا رکھا تھا۔

مسٹر ایبٹ نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر جاری کیا کہ جب ان کا ملک شمالی عراق کے پہاڑی سلسلے میں پھنسے ہوئے عام شہریوں کی داعش سے جان بچانے اور ان تک فوری امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کئے جانے والے کسی آپریشن میں شرکت کا عندیہ ظاہر کر چکا ہے۔

اخبار کے مطابق زیر نظر تصویر عراق کے شمالی شہر الرقہ میں لی گئی جسے گذشتہ برس آسٹریلیا سے فرار ہو کر داعش جنگجو بننے والے آسٹریلوی شہری خالد شیروف نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر پوسٹ کیا تھا۔

تصویر میں مبینہ طور پر شیروف کا سات سالہ بیٹا دیکھا جا سکتا ہے جس نے اپنے ہاتھ میں نامعلوم شامی فوجی کے تن سے جدا سر کو بالوں سے تھام رکھا ہے۔ تصویر نے نیچے خالد شیروف نے وضاحت کی ہے کہ 'تصویر میں نظر آنے والا لڑکا اس کا بیٹا ہے۔"

آسٹریلوی اخبار میں شائع ایک دوسری تصویر میں خالد شیروف کیموفلاج یونیفارم میں تین لڑکوں کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے، سیکیورٹی اداروں کے خیال میں یہ اس کے بیٹے ہیں۔ تینوں 'ریاست اسلامی' کے کلمے والے سیاہ پرچم کے سامنے بندوقیں اٹھائے کھڑے ہیں۔ نیدرلینڈ ریڈیو 'ABC' سے بات کرتے ہوئے کے اے بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے مسٹر ایبٹ کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر دہشت گرد تنظیم کی 'وحشیانہ فطرت' کو ظاہر کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا نے شروف کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ حکام کے مطابق تقریبا 150 آسٹریلوی مسلح گروپوں کی صفوں میں شامل ہو کر عراق اور شام میں 'داد شجاعت' دینے میں مصروف ہیں۔

آسٹریلوی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ مل کر عراق میں پھنسے اور تباہ حال شہریوں کی مدد کے لئے کھانا اور پانی پہنچانے کے مشن میں حصہ لے گا اور انہیں وہاں سے سے نکالنے کی خاطر کی جانے والی کسی کارروائی میں مدد کے لئے دو طیارے دے سکتا ہے۔