.

امریکی صدر کا رابن ولیمز کی رحلت پر اظہار افسوس

آنجہانی نشے کی عادت سے قبل ایک مدبر شخصیت سمجھے جاتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما اور امریکا کے خاندان اول نے معروف مزاحیہ اداکار رابن ولیمز کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے تعزیتی پیغام میں امریکی فرسٹ فیملی نے رابن ولیمز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ولیمز نے ہمیں ہنسایا اور کبھی رلایا۔ انہوں نے اپنی لامحدود صلاحیتوں کو ان افراد کے لیے آزادانہ اور وافر طور پر استعمال کیا جنہیں ان کی ضرورت تھی۔ ان کے فن سے دوسرے ملکوں میں تعینات امریکی فوجیوں سے لیکر امریکی گلی محلوں کے گرے پڑے سبھی یکساں طور پر محظوظ ہوئے۔

بیان کے اختتام پر امریکی فرسٹ فیملی نے رابن ولیمز کے اہل خانہ، دوستوں اور ان تمام افراد سے دلی اظہار تعزیت کیا کہ جو آنجہانی سے محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔

اس سے قبل شمالی کیلیفورنیا کی میرین کاؤنٹی کے شیریف کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلان میں بتایا گیا تھا کہ تریسٹھ سالہ رابن ولیمز اپنےگھر میں بے حس پائے گئے اور ڈاکٹروں کی جانب سے طبی معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

شیریف کے دفتر کے مطابق اِس کا امکان ہے کہ رابن ولیمز کی موت آکسیجن کی کمی سے ہو سکتی ہے جو بظاہر خودکشی کا عمل ہو سکتا ہے۔ شیریف آفس نے موت کی حتمی وجہ بتانے سے گریز کیا کیونکہ تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ رابن ولیمز کو منشیات کی عادت ترک کرنے کے کوششوں کے تناظر میں امریکی ریاست مینیسوٹا کے ایک بحالی کے مرض میں داخل کروایا گیا تھا۔ وہ برسوں کوکین استعمال کرتے رہے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے نشہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔

نشے کی عادت سے قبل رابن کو امریکی معاشرے میں ایک مدبرانہ شخصیت کے حامل اداکار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ وہ اپنےاس پروفائل کو پائیدار بنیادوں پر دوبارہ سے اپنانا چاہتے تھے۔ اُن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ولیمز اِن دنوں کسی بھی قسم کی نشہ آور شے یا الکوحل کا استعمال نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اِن دنوں سابقہ شیڈول سے زیادہ اپنے امور انجام دے رہے تھے۔ پولیس بھی رابن ولیمز کی موت کو بظاہر خودکشی کا فعل قرار دے رہی ہے لیکن حتمی اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ انہوں نے تین شادیاں کیں۔

رابن میکلارین ولیمز امریکی فلم صنعت کا ایک معتبر نام تصور کیا جاتا ہے۔ وہ اداکاری کے علاوہ مختلف آوازوں کی نقالی میں بھی معروف تھے۔ کئی کارٹون فلموں میں اُن کی آواز کا استعمال بھی کیا گیا۔ رابن ولیمز ہلکے پھلکے کرداروں کو کمال مہارت سے نِبھاتے تھے۔ ان کو شہرت ایک ٹیلی وژن سیریز مورک اینڈ مِنڈی سے حاصل ہوئی تھی۔ ان کو تین مرتبہ اکیڈمی ایوارڈ کی نامزدگی حاصل ہوئی تاہم سن1997 میں گُڈ ہِل ہنٹنگ فلم میں بہترین معاون ادار کا آسکر حاصل کرنے میں وہ کامیاب رہے۔ اُن کو مختلف فلموں میں شاندار کردارنگاری پر کئی دوسرے بین الاقوامی ایوارڈز بھی دیے گئے۔

رابن ولیمز کے کیریر میں کئی مشہور فلمیں ہیں۔ ان میں خاص طور پر سن 1987 میں ریلیز ہونے والی گُڈ مارننگ ویت نام کے علاوہ سن 1989 میں ریلیز ہونے والی ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی خاصی اہم خیال کی جاتی ہیں۔ اسی طرح سن 1990 میں اویکننگ اور سن 1991 میں ریلیز ہونے والی دی فِشر کنگ نامی فلموں میں اُن کی پرفارمنس کو انتہائی زیادہ سراہا گیا۔ ہلکی پھلکی فلموں میں پوپائی، ہُک، الہ دین، جُمان جی اور برڈ کیج جیسی فلمیں باکس آفس پر ہٹ رہی تھیں۔