.

کلونی کی منگیتر کی غزہ کمیشن میں شمولیت سے معذرت

پینل کو غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی تحقیق کرنا تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالی وڈ کے اسٹار جارج کلونی کی منگیتر لبنانی نژاد برطانوی وکیل امل علم الدین نے اقوام متحدہ کے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رکنیت قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

ایک بیان میں امل علم الدین نے کہا کہ "عالمی ادارے کی پیشکش ان کے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم موجودہ مصروفیات، جن میں آٹھ زیر سماعت مقدمات سر فہرست ہیں، کی وجہ سے میں بدقسمتی نے یو این کی آفر قبول نہیں کر سکتی۔"

یاد رہے انہیں گذشتہ روز اقوام متحدہ نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رکن نامزد کیا تھا۔ اس تین رکنی کمیشن کے سربراہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ولیم شباس ہیں اور تیسرے رکن سینی گال سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ماہر داؤدو دائن ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ''اس تین رکنی تحقیقاتی کمیشن نے 13 جون 2014ء کے بعد تمام فوجی کارروائیوں کے تناظر میں بین الاقوامی انسانی قانون اور عالمی انسانی حقوق کے قانون کی تمام خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا تھی''۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری تباہ کن زمینی اور فضائی حملوں میں ایک ہزار نو سو اڑتیس فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں سڑسٹھ اسرائیلی مارے گئے ہیں۔ان میں چونسٹھ صہیونی فوجی ہیں۔

یہ پینل اپنی تحقیقات مکمل کرکے مارچ 2015ء تک اپنی رپورٹ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کرے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیل اس عالمی فورم کو متعصب قرار دیتا چلا آرہا ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر مس نیوی پلے نے 31 جولائی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ پر حملوں کے دوران جان بوجھ کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور عالمی طاقتوں کو جنگی جرائم پر اس کا احتساب کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے جنیوا کنونشنوں کی کھلی خلاف روزی کرتے ہوئے گھروں ،اسکولوں ،اسپتالوں ،اقوام متحدہ کی جگہوں اور علاقے کے واحد پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے حماس پر بھی الزام عاید کیا تھا کہ اس نے بلا امتیاز اسرائیل کی جانب راکٹ فائرکرکے بین الاقوانی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔