مذہبی پولیس کو گالیاں: سعودی خاتون کو کوڑے، قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے شہر مکہ معظمہ کی ایک اپیلٹ کورٹ نے ایک ماتحت فوجداری عدالت کی جانب سے خاتون شہری کو 50 کوڑوں اور ایک ماہ قید کی سزا کی توثیق کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سزا یافتہ خاتون ایک کاروباری شخصیت ہے۔ اس کےخلاف مقدمہ اس وقت بنایا گیا جب اس نے اپنے ایک کیفے پر چھاپہ مارنے والے مذہبی پولیس المعروف امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے اہلکاروں کو گالیاں دیں اور انہیں 'کذاب' قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق سزا پانے والی سعودی خاتون کے ملکیتی کیفے پر چھاپے اور پولیس اہلکاروں سے مبینہ بدکلامی کا واقعہ کئی ماہ قبل پیش آیا۔ پولیس نے چھاپے کے بعد اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک فوج داری عدالت میں کیفے کی مالکن کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ عدالت کے حکم پر خاتون کو حراست میں لیا گیا۔ فوجداری عدالت نے ابتدائی طور پر خاتون کو 05 دن قید اور 10 کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔

مذہبی پولیس نے سزا کو اپیل کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ اپیل کورٹ نے پولیس کی رپورٹ، گواہوں کے بیانات اور مدعا علیھا کا موقف سننے کے بعد سزا کو ناکافی قرار دیتے ہوئے فوجداری عدالت سے سزا پر نظر ثانی کا فیصلہ دیا۔

فوج داری عدالت نے دوبارہ کیس کی سماعت کی اور ملزمہ کو ایک ماہ قید اور پچاس کوڑوں کی سزا کا حکم دیا ہے۔ خاتون کے وکلاء نے مقدمہ دوبارہ اپیل کورٹ میں اٹھایا تو جج صاحبان نے فوج داری عدالت کی سزاء کی توثیق کرتے ہوئے اسے حتمی قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چند ماہ پیشتر پولیس نے معمول کی کارروائی کے دوران جدہ میں ایک کیفے پر چھاپہ مارا تو وہاں پر کچھ غیر ملکی غیر قانونی طور پر کام کرتے پائے گئے۔ وہ پولیس کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ پولیس حکام نے ہوٹل سے بعض اہم نوعیت کی چیزیں قبضے میں لیں اور اس کی رپورٹ مرتب کر رہے تھے کہ اس دوران مالکن بھی آ دھمکی۔ اس نے پولیس پر لعن طن کی اور انہیں کذاب قرار دیتے ہوئے انہیں سرعام سب وشتم کا نشاہ بنایا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولیس کے عدالت میں دائر مقدمہ میں تین اہلکاروں نے عینی شاہد ہونے کی حیثیت سے گواہی دی۔ گواہوں میں ایک خاتون پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں