.

"دین کے نام پر داعش خواتین کا استحصال کر رہی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کے علاقوں پر اپنی خود ساختہ خلافت وحکومت کے قیام کی دعوے دار تنظیم "داعش" جہاں اپنے نظریاتی مخالفین سے نمٹنے کے لیے پرتشدد ہتھکنڈے استعمال کرنے میں بدنامی کی حد تک مشہور ہے وہیں اس تنظیم نے دین اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کو داغ دار کرتےہوئے خواتین کے بنیادی حقوق کا بھی استحصال شروع کر رکھا ہے۔ بدقسمتی سے داعش کے جنگجو یہ سب کچھ مذہب اور اسلامی شریعت کی آڑ میں کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے خواتین کے بارے میں داعش کے ضابطہ اخلاق اور سخت گیر قوانین پر ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش کے جنگجو جہاں خواتین کا جنسی استحصال کر رہے ہیں وہیں وہ اپنے مقاصد کی ترویج وحصول کی خاطر صنف نازک کو عسکری اور لاجسٹک میدان میں بھی بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ خواتین کے بنیادی سیاسی اور شہری حقوق کے بھی قائل نہیں ہیں۔

عراق اور شام کے جن علاقوں میں داعش کی حکومت قائم ہے وہاں خواتین کے لباس اور پورے طریق زندگی کے بارے میں سخت گیر قوانین نافذ ہین مثلاً خواتین کے لیے ایسا حجاب اور پردہ لازمی ہے جس میں آنکھیں بھی نظر نہ آئیں۔ کھلی چادریں اوڑھنے اور رنگین برقع پہننے پر پابندی ہے۔ تنگ لباس پہننا ممنوع ہے۔ خواتین پرفیومز استعمال کر سکتی ہیں اور نہ ہی انہیں اونچی ایڑی والے جوتے پہننے کی اجازت ہے۔ قصہ مختصر خواتین پر قدغنوں اور پابندیوں کی ایک طویل فہرست ہے،جنہیں داعش کے جنگجو اسلامی شریعت کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

اگر بات پردے اور حجاب تک ہوتی تو پھر بھی گنجائش تھی۔ مگر داعش تو خواتین کے 'ختنے' جیسے غیر فطری عمل کی حامی ہے۔ زنا یقینا ایک قابل مذاخذہ جرم ہے لیکن اس کے مرتکب کو شرعی سزا کے نفاذ کے لیے جس شرعی قاعدے اور قانون کی ضرورت ہےاس کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے۔ حال ہی میں شام کی ایک خاتون کو محض زنا کے شبے میں سنگسار کر دیا گیا۔ کئی افراد کو اسی طرح کے شبے میں کوڑے مارے جاتے رہے ہیں۔

چند روز پیشتر شمالی عراق کے سنجار شہر سے یزیدی قبیلے کی خواتین کو ایک فرسودہ روایت پر عمل کرتے ہوئے انہیں سر بازار لونڈیا بنا کر نیلام کیا گیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ داعش کی خواتین دشمنی کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے اسلام اور مسلمانوں سے جوڑ رہے ہیں۔ یورپی میڈیا کا کہنا ہے کہ داعش کی جانب سے "النکاح بالجہاد" کے اعلان کو یورپی خواتین میں بھی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے جس کے بعد دسیوں یورپی خواتین داعش میں شمولیت پر غور کر رہی ہیں۔

حال ہی میں برطانوی اخبار"ڈیلی ٹیلیگراف" نے برطانیہ کے مانچسٹر شہر سے تعلق رکھنے والی دو جڑواں بہنوں کا واقعہ بیان کیا ہےجو اپنا ملک چھوڑ کر داعش میں شمولیت کے شام روانہ ہو گئی تھیں۔

داعش چونکہ خواتین کو اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تنظیم نے "خنساء" اور "ام الریان" کے نام سے خواتین کے دو بریگیڈ بھی قائم کر رکھے ہیں جن میں عراق اور شام سمیت کئی دوسرے ملکوں کی سیکڑوں لڑکیاں شامل ہیں۔