دولت اسلامی نہیں انتہا پسند گروپ: مفتی اعظم مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کے سب سے بڑے مذہبی ادارے دارالافتاء نے انٹرنیٹ پر ایک مہم شروع کی ہے جس میں کہا ہے کہ عراق اور شام میں برسرپیکار گرپ دولت اسلامی کو اس نام سے نہ پکارا جائے بلکہ اس کو انتہا پسند گروپ لکھا اور بولا جائے۔

مصر کے مفتیِ اعظم شوقی عالم نے ماتحت دارالافتاء نے غیر ملکی میڈیا کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ عراق اور شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ کو ''دولت اسلامی''(یا ریاست اسلامی) کہنے اور لکھنے سے گریز کریں۔

مفتی شوقی عالم نے قبل ازیں کہا تھا کہ یہ انتہا پسند گروپ تمام اسلامی اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے اور یہ مجموعی طور پر اسلام کے لیے خطرہ ہے۔مفتیِ اعظم کے ایک مشیر ابراہیم نجم نے کہا ہے کہ اس گروپ کو''عراق اور شام میں القاعدہ کا علاحدگی پسند'' قرار دیا جائے یا اس کا مخفف ''کیو ایس آئی ایس'' لکھا جائے۔

مڈل ایسٹ نیوزایجنسی (مینا) کے مطابق ابراہیم نجم نے کہا ہے کہ ''داعش کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے یہ اقدام اسلام کے تشخص کو درست کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہے کیونکہ ایسے گروپوں کے مجرمانہ افعال کی وجہ سے مغرب میں اسلام تشخص مجروح ہونے کے علاوہ لوگوں کے درمیان نفرت پھیل رہی ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''ہم اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ تمام مسلمان ان حرکتوں کے خلاف ہیں اور یہ اسلام کے رواداری کے اصولوں کے بھی منافی ہیں''۔انھوں نے بتایا کہ ''انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر ان کی مہم میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے اسلامی دانشوروں اور علماء کی آراء بھی شامل ہوں گی''۔

اس کے تحت ٹویٹر پر ہیش ٹیگ مہم بھی شامل ہو گی۔اس میں مسلمانوں کی ویڈیوز شامل ہوں گی جس میں اس گروپ کی سرگرمیوں کی مذمت کی جائے گی۔مصر کے دارالافتاء کی اس مہم سے قبل سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے داعش کو اسلام کی دشمن نمبر ایک تنظیم قرار دیا تھا۔

دولت اسلامی کی حالیہ ہفتوں کے دوران عراق اور شام میں فتوحات کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مسلم ممالک کے علماء اور اسلامی دانشور داعش کی سخت گیر کارروائیوں کی مذمت کررہے ہیں۔

ان کے نزدیک داعش القاعدہ سے بھی زیادہ شدت پسند اور جارح جنگجو گروپ ہے۔داعش (یا آئی ایس آئی ایس) نے 10 جون کو عراق کے شمالی شہر موصل سے اپنی فتوحات کا آغاز کیا تھا۔اس نے 29 جون کو اپنے زیرنگیں شام اور عراق میں خلافت قائم کرنے کا اعلان کردیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان حد فاصل بین الاقوامی سرحد کو بھی مٹا دیا تھا اور اپنا نام مختصر کرکے دولت اسلامی (آئی ایس) کر لیا تھا۔

اس کے بعد امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے اپی) اس انتہا پسند تنظیم کو دولت اسلامی یا اس کے جنگجوؤں کو دولت اسلامی کے جنگجو لکھ رہی ہے۔بعض دوسرے میڈیا ادارے بھی اس کو اسی نام سے لکھ اور پکار رہے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل ،اس سے وابستہ چینلز اور اس کی چاروں زبانوں (عربی ،انگریزی، اردو ،فارسی) میں ویب سائٹس کی خبروں اور تجزیوں میں اس سخت گیر جنگجو گروپ کو دولت اسلامی لکھا جارہا ہے لیکن ساتھ سخت گیر یا انتہاپسند کے الفاظ لکھے جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں