سابق مصری "راپ" موسیقار امریکی صحافی کا قاتل؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

چند روز قبل شام میں دولت اسلامی "داعش" کے جنگجوئوں کے ہاتھوں مغوی امریکی صحافی جیمز فولی کے سر قلم کیے جانے کے بعد امریکا اور برطانیہ کے خفیہ ادارے قاتل کی شناخت کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ گو کہ ابھی تک نقاب پوش "داعشی" جنگجو کا صحیح تعارف تو نہیں ہو سکا ہے تاہم برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" نے دعویٰ کیا ہے کہ خفیہ اداروںMI5 اور MI6 نے فولی کے قاتل کی شناخت عبدالمجید عبدالباری کے نام سے کی ہے جو ایک سابق مصری راپ سنگر رہ چکا ہے۔

برطانوی اخبار نے جیمز فولی کے سر قلم کرنے والے جہادی کی شناخت کے عنوان سے تحریر کی گئی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ خفیہ اداروں نے امریکی صحافی کے قاتل کی شناخت کی ہے تاہم اسے بوجوہ منکشف نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ اخبار کو اس کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔ وہ ایک سابق مصری پاپ موسیقار اور راپ سنگر ہے۔ تیئس سالہ جنگجو کا تعلق مصر سے ہے۔ کچھ عرصہ قبل وہ موسیقی ترک کرکے داعش کے شدت پسندانہ راستے پر چل نکلا تھا۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ امریکی صحافی کے مشتبہ قاتل عبدالمجید عبدالباری نے کچھ عرصہ قبل بھی انٹرنیٹ پر اپنی تصاویر پوسٹ کی تھیں جس میں اس نے مخالفین کے کاٹے گئے سر اٹھا رکھے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مشتبہ سابق مصری پاپ موسیقار کے بارے میں جان کاری کے دوران اس کے خاندان کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل کی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ عبدالمجید عبدالباری کا والد 54 سالہ عادل عبدالمجید بھی ایک شدت پسند ہے۔ عادل عبدالمجید نے سنہ 1990ء میں اپنی بیوی بچوں کے ہمراہ مصر سے ترک وطن کرکے برطانیہ میں سکونت اخیتار کی۔ سنہ 1998ء میں نیروبی اور دارلسلام میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں میں عادل عبدالمجید کو بھی ملوث قرار دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ برطانیہ روانگی سے قبل مصر میں بھی عادل عبدالمجید شدت پسندی کی جانب مائل تھا اس سے شدت پسندانہ سرگرمیوں کے الزام میں سنہ 1985ء میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے ایک دوسرے شدت پسند منتصر الزیات کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی ایک تنظیم بھی قائم کرنے کی کوشش کی تھی جو زیادہ عرصہ نہیں چل سکی۔ مصر میں رہتے ہوئے عادل کو چھ سال میں 10 مرتبہ گرفتار کیا گیا۔

نیروبی اور دارلسلام میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں میں ملوث ہونے پر امریکی حکومت کی درخواست پر برطانیہ نے سنہ 1999ء میں عادل کو حراست میں لیا۔ امریکا نے برطانیہ سے اسے اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تاہم لندن کی ایک عدالت نے عادل کو 12 سال قید کی سزا سنا دی۔ سنہ 2012ء میں قید کی مدت ختم ہونے کے بعد لندن نے عادل عبدالمجید کو امریکا کے حوالے کر دیا تھا۔

پر تشدد خیالات رکھنے والا عادل عبدالمجید کا 23 سالہ بیٹا عبدالمجید عبدالباری اوائل عمر میں مغربی موسیقی کا دلدادہ تھا اور مصر میں اسے "راپ" موسیقار کے حوالے سے بھی جانا جاتا تھا۔ اس نے برطانیہ میں مکمل مغربی طرز کے اسکولوں میں تعلیم بھی پائی تھی۔ اس لیے اس کے شدت پسندی کی جانب میلان کا امکان بہت کم تھا ۔ یو ٹیوب پر L Jinny کے نام سے کئی آڈیو اور ویڈیو گانوں کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ پنے اپنی رپورٹ میںبھی اس کی ایک جھلک دکھائی ہے۔ تاہم گذشتہ برس اچانک اس کے بارے میں پتا چلا کہ بہت سے دوسرے برطانوی مسلمانون نوجوانوں کے ساتھ عبدالمجید بھی شام چلا گیا ہے جہاں اس نے جنگجو تنظیم"داعش" میں شمولیت بھی اختیار کرلی ہے۔

عبدالمجید عبدالباری نے ٹیوٹر اکائونٹ جسے بعد ازاں بلاک کر دیا گیا میں ایک ٹویٹ میں مغربی ملکوں کو دھمکی دی اور لکھا کہ "ہم کفار مغرب سے نبرد آزما ہونے کے لیے آ رہے ہیں۔ اللہ کریم جلد ہی مغربی ممالک کے دروازے ہمارے لیے کھول دے گا اور ہم ہر جگہ جہاد اور اسلام کی فتح کا علم لہرائیں گے"۔

میڈیا رپورٹس میں یہ اطلاع بھی آئی تھی کہ عبدالمجید کو ابو حسین نامی ایک دوسرے ساتھی کے ہمراہ شام کی ایک دوسری جنگجو تنظیم نے اغواء کر لیا ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں