.

'داعش' سے فولی کے قتل کا بدلہ لیں گے: اوباما

امریکی مشن کی تکمیل ممکن کیسے ہو گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ہفتے شام میں امریکی صحافی جیمز فولی کی دولت اسلامی"داعش" کے جنگجوئوں کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد امریکی حکومت داعش سے انتقام لینے کے لیے پر عزم دکھائی دیتی ہے۔

شام میں "داعش" کےخلاف امریکی فوج کی کوئی بھی کارروائی کس نوعیت کی ہو گی اس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاہم امریکی صدر باراک اوباما کی ہدایت پر بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں نے شام کی فضائی نگرانی شروع کر دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فوٹو جرنلسٹ جیمز فولی کے قتل کے بعد امریکی سرکار بالخصوص صدر باراک اوباما کی 'بدن بولی' سے لگ رہا ہے کہ وہ شام میں داعش کے جنگجوئوں کےخلاف کچھ نہ کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وائٹ ہائوس میں سابق فوجی افسروں اور جوانوں سے خطاب میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان کا ملک دوسرے ملکوں میں موجود اپنے شہریوں کی زندگی کی حفاظت کے لیے براہ راست فوجی مداخلت سمیت ہر ممکن اقدام کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ ان کا اشارہ شام کی جانب تھا جہاں چند روز قبل صحافی جیمز فولی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا تھا۔

داعش کے ٹھکانوں کی نشاندہی

جیمز فولی کے مبینہ قتل کے بعد عالمی میڈیا کی توجہ ان دنوں داعش کےخلاف امریکی حکومت کے ردعمل پر مرکوز ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شام کی فضاء میں موجود امریکی ڈرون طیاروں کی پروازوں کا اصل مقصد داعش کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

امریکا میں انٹرنیشنل اسٹرٹیجک اسٹڈی سینٹر سے وابستہ دانشور انٹونی کورڈ سمان کا کہنا ہے کہ فی الوقت امریکا فضائی جاسوسی کے ذریعے داعش کے ٹھکانوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ انٹیلی جنس معلومات مکمل ہونے کےبعد ان معلومات کی روشنی میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ڈروان طیاروں اور سیٹلائیٹس کی مدد سے داعش کے ٹھکانوں کی بہتر انداز میں نشاندہی ممکن ہے، چونکہ شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقے تو واضح ہیں، صرف اہم اہداف کی نشاندہی ضروری ہے۔ اس وقت شام میں حلب، الرقہ اور مشرقی شام کے عراق سے متصل دوسرے علاقے داعش کے قبضے میں ہیں۔

موصل کا تجربہ

امریکی فوج نے گذشتہ ہفتے داعش کے زیر کنٹرول عراق کے شمالی شہر موصل پر عراقی اور کرد فورسز کی مدد سے بمباری کی اور موصل کے ایک بڑے ڈیم پر داعش کا قبضہ ختم کرا دیا تھا۔ دفاعی ماہرین امریکی حکومت کو یہ تجویز بھی دے رہے ہیں کہ وہ موصل میں فوجی کارروائی کا تجربہ ہی شام میں بھی استعمال کرے۔

موصل میں داعش کے ٹھکانوں پر بیک وقت فضائی اور زمینی حملے سے قبل امریکی ڈرون طیاروں اور سیٹلائیٹ کی مدد سے شدت پسندوں کے اہم مراکز کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن نشاندہی چند گھنٹوں میں نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے کئی روز فضائی نگرانی جاری رکھی گئی تھی۔ جب امریکیوں کو داعش کی نقل وحرکت کا مکمل طور پر اندازہ ہو گیا تو انہوں ‌نے کرد فوج البشمرکہ کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف فضائی اور زمین آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

شامی رجیم سے عدم تعاون

شام میں امریکا کی فضائی یا زمینی فوجی کارروائی عملاً عراق سے مختلف ہو گی۔ چونکہ عراق نے خود اپنی سر زمین پر امریکا کو حملوں کی نہ صرف اجازت دی تھی بلکہ داعش کی سرکوبی کے لیے امریکا بہادر سے مدد طلب کی تھی، لیکن شام میں ایسا نہیں ہے۔ شام کے معاملے میں خود امریکی انتظامیہ دُہرے مخمصے کا شکار ہے۔ ایک جانب امریکی سرکار کی خواہش ہے کی شام میں عوامی بغاوت کی تحریک کو تیز کرکے صدر بشارالاسد کو کمزور کیا جائے اور دوسری جانب امریکا کو خود داعش جیسے شدت پسند اور نسبتا زیادہ طاقت ور گروپ سے نمٹنے کا چیلنج در پیش ہے۔ ایسے میں امریکا کے پاس کئی آپشنز ہیں، ان میں ایک یہ کہ شامی حکومت کے تعاون سے داعش کےخلاف کارروائی کی جائے لیکن امریکا نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

البتہ شام میں صدر بشار الاسد کی مخالف اپوزیشن کی فوج 'جیش الحر' سے تعاون لیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں ‌پر مسئلہ یہ ہے کہ جیش الحر عراق کی کرد فوج کی طرح کوئی مضبوط فوج نہیں ہے۔ بہرحال امریکا شام میں صدر بشار الاسد سے داعش کےخلاف کسی قسم کا تعاون لے گا اور نہ ہی کرے گا کیونکہ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ شام میں ایک لاکھ 90 ہزار لوگوں کے قتل میں بشار الاسد اور لبنانی حزب اللہ ملوث ہیں۔

ایبٹ آباد طرز کا کمانڈو ایکشن؟

شام میں داعش کے جنگجوئوں کےخلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا کے سامنے ممکنہ طور پر کئی راستے موجود ہیں۔ صرف فضائی کارروائی، جیش الحر کے ساتھ مل کر داعش کےخلاف فضائی اور زمینی آپریشن کے ساتھ ایک تیسرا آپشن یہ بھی ہے کہ داعش کے اہم کمانڈروں اور سرکردہ قائدین کے قتل کے لیے رات کی تاریکی میں کمانڈوز اتارے جائیں۔ جس طرح مئی 2010ء کو القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کمانڈو ایکشن کیا گیا تھا اس ایکشن کو شام میں "ری پلے" کیا جائے۔

امریکا ایسا اس لیے بھی کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے جیمز فولی کے قتل کا بدلہ داعش کی مرکزی قیادت کو قتل کرکے لینا ہے۔ معمول کی فضائی کارروائی میں مرکزی قیادت کے بچ جانے کے احتمالات موجود ہیں، لیکن امریکا کو کیسے پتا چلے گا کہ داعش کی مرکزی قیادت کہاں کہاں موجود ہے کیونکہ تنظیم کے مرکزی "ہدایت کار" شام اور عراق کے درمیان جگہ جگہ پھیلے ہوئےہیں۔

شام میں داعش کی سرکوبی اور جیمز فولی کے قتل کا انتقام امریکیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے لیکن صدر باراک اوباما عراق اور افغانستان کی جنگوں سے یہ سبق بھی سیکھ چکے ہیں کہ وہ طویل عرصے کے لیے کسی بھی ملک میں اپنی فوجیں نہیں اتاریں گے۔ امریکی سپاہ کو حسب ضرورت مخصوص اہداف پر حملوں کے لیے صرف سرجیکل اسٹرائیک کی حد تک استعمال کیا جائے گا۔

داعش کےخلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا کی حکمران اور اپوزیشن قیادت میں کسی حد تک اتفاق پایا جاتا ہے مگر ڈیموکریٹس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ صدر باراک اوباما داعش کے خلاف طویل المیعاد منصوبہ بندی کریں۔ اس منصوبہ بندی میں عراق، ترکی، اردن اوراپنے خلیجی اتحادیوں کو بھی شامل کیا جائے۔ ان ملکوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہاں سے داعش کو اسلحہ و افرادی قوت نہیں ملے گی۔ اس طرح شام میں داعش کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ بشارالاسد کی حقیقی اپوزیشن کی فوج "جیش الحر" کو مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔