.

"العربیہ" کی امریکی بیڑے سے عراق میں فضائی حملوں کی کوریج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں اسلامی شدت پسند گروپ دولت اسلامی کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے ایک ماہ سے جاری ہیں۔

"العربیہ" نیوز چینل خلیج عرب میں موجود امریکی جنگی بیڑے جارج ڈبیلو بش سے براہ راست عراق میں فضائی حملوں کی کوریج کر رہا ہے۔ فی الوقت یہ فضائی حملے عراق تک محدود ہیں لیکن غالب امکان ہے کہ جلد ہی فضائی آپریشن کو شام تک وسعت دی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی جنگی طیارے 'ہارنیٹ ایف 18' چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر عراقی فضاء میں پروازیں کرتے ہیں۔ میزائلوں سے لیس جنگی طیارے گھنٹوں فضاٰء میں غائب رہتے ہیں اور اپنے اہداف پرحملوں کے بعد دوبارہ جنگی بیڑے پر واپس آ جاتے ہیں۔

جولائی سے خلیجی پانیوں میں موجود امریکی بحری بیڑے پر کم سے کم 40 جنگی ہوائی جہاز موجود ہیں۔ ان میں کچھ بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے بھی ہیں جنہیں کم وقتی فضائی حملے یا سراغ رسانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بحری بیڑے کے سربراہ ایڈمرل ایڈم میلر 30 سال سے نیوی میں خدمات انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی براہ راست حصہ لیا۔ ان دنوں ان کی خدمات داعش کی سرکوبی کے لیے حاصل کی گئی ہیں۔ ایڈمرل میلر کی نگرانی میں‌جاری آپریشن میں داعش کو غیر معمولی نقصان پہنچایا گیا ہے جس کے نتیجے میں شدت پسند تنظیم کی سرگرمیاں سکڑنا شروع ہو گئی ہیں۔

ایڈمرل ایڈم ڈیلوف کا کہنا ہے کہ صدر [باراک اوباما] نے پوری وضاحت کے ساتھ انہیں ہدایت کی ہے کہ عراق میں جاری فضائی آپریشن صرف اور صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ ہم نہ صرف عراقی عوام کو داعش سے بچا رہے ہیں بلکہ عراق میں‌موجود امریکی شہریوں اور امریکی مفادات کا بھی تحفظ کر رہے ہیں۔

موصل ڈیم سے داعش کی شکست اور سنجار پر قبضہ چھڑانے میں امریکی فضائی حملوں نے اہم کردار ادا کیا۔ امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ جارج بش بحری بیڑے سے جنگی طیارے یومیہ 90 اڑانیں بھرتے ہیں اور ہر روز کم سے کم داعش کے ٹھکانوں ‌پر 30 کامیاب فضائی حملے کیے جاتے ہیں۔