.

'العربیہ' نیوز شام کی تحریک انقلاب موثر آواز ثابت

'الحدث' بھی عالمی مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک میں جہاں کہیں بھی حق اور سچ کی آواز بلند ہوئی "العربیہ" نیوز چینل اور اس کا برادر ٹیلی ویژن الحدث نہ صرف اس کے ترجمان بن گئے بلکہ ظالم کے ظلم کو بے نقاب کرنے میں مظلوموں کا ساتھی ثابت ہوئے ہیں۔

العربیہ چینل کی اسی خوبی نے آج اسے شام کے محاذ جنگ کی بہترین رپورٹنگ کرنے والا چینل کا درجہ دلوایا ہے۔ "العربیہ" کی شام کے پرخطر محاذ جنگ میں کی جانے والے رپورٹنگ اور انقلابی قوتوں کی ترجمانی کی ایک نئی کامیابی ثابت ہوئی ہے اور 'العربیہ' شام کی تحریک انقلاب کی ایک "موثر" اور جاندار آواز بن کر ابھرا ہے۔

حال ہی میں Media in Cooperation and Transition نے بیروت میں قائم امریکن یونیورسٹی کے تعاون، پروفیسر جاڈ ملکی کی نگرانی اور جرمن حکومت کے مالی تعاون سے ایک رپورٹ جاری کی ہےجس میں شام میں جاری تحریک انقلاب کو پوری دنیا میں زیادہ موثر انداز میں اٹھانے والے ابلاغی اداروں کی خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں "العربیہ" نیوز چینل کو شام کے محاذ جنگ اور وہاں پر ہونے والی ہرقسم کی پیش رفت کی بروقت رپورٹنگ کرنے والا پہلا چینل قراردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 'العربیہ' کے برادری ٹی وی الحدث کی خدمات بھی کسی سے پیچھے نہیں اور یہ چینل بھی شام کے محاذ جنگ کی رپورٹنگ میں عالمی ابلاغی اداروں کی فہرست میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔

رپورٹ میں شام کے اندر اور بیرون ملک شامی باشندوں کے ابلاغی ذرائع کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ شام کے بارے میں بہترین رپورٹنگ کے حوالے سے رائے عامہ کا ایک جائزہ بھی لیا گیا جس میں دمشق، دیر الزور، حمص، الرقہ اور شمالی شام کے کرد اکثریتی علاقوں، لبنان، اردن اور ترکی میں موجود 1400 شامی شہریوں سے رائے لی گئی۔

شامی باشندوں نے "العربیہ" نیوز چینل کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے شام کی تحریک انقلاب کا ترجمان قرار دیا۔ یوں عرب خطے میں شام کے بارے میں بہترین رپورٹنگ کا سہراء العربیہ کے سر پر باندھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب سے شام میں صدر بشار الاسد کےخلاف عوامی بغاوت کی جنگ شروع ہوئی ہے "العربیہ" نے شامی عوام کے بنیادی حقوق کے مطالبات کی کھل کرحمایت کی ہے۔ اسی حمایت کے نتیجے میں "العربیہ" اس وقت اندرون اور بیرون ملک شامی باشندوں کا سب سے مقبول چینل بن چکا ہے۔ شام کی نصف آبادی روز مرہ کی بنیاد پر کم سے کم دو گھنٹے انٹرنیٹ پر خبریں تلاش کرتی ہے اور ریڈیو اور اخبارات کو صرف آدھا گھنٹہ نصیب ہوتا ہے۔

رپورٹ میں شام کے بارے میں‌بہترین رپوٹنگ میں "العربیہ" قطر کے "الجزیرہ" سے واضح فرق کے ساتھ اول درجہ حاصل کرنے میں‌کامیاب ہوا ہے۔ الجزیرہ کے بعد تیسرا نمبر شامی اپوزیشن کا ترجمان" اورینٹ" ٹی وی کو ملا ہے۔ چوتھے نمبر پر شامی حکومت کا حامی سماء ٹی وی جبکہ العربیہ کا برادری ٹی وی چینل"الحدث" نوزائدہ چینل ہونے کے باوجود چوتھے درجے میں ہے۔ ان کے بعد "بی بی سی" عربی سروس، سکائی نیوزم، المنار اور "حلب الیوم" جیسے ٹی وی چینلوں کے نام آتے ہیں۔