عرب منچلوں کی لندن میں شاہراہ پر شیشہ نوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانیہ کا دارالحکومت لندن اور یورپی ملکوں کے کئی دوسرے تاریخی وثقافتی مراکز کی اہمیت کے حامل شہر عرب امراء کی سیاحت کا مرکز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان شہروں میں عرب امراء کے بیٹوں اور دوسرے نوجوانوں کی قانون کی خلاف ورزیوں کے واقعات بھی اکثر رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

"نائیٹسبریج" لندن کا وہ مرکزی مقام ہے جہاں بیک وقت تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہتی ہیں۔ یہ مقام بھی عرب نوجوانوں کی آمد ورفت کا مرکز ہے۔ یہاں بعض اوقات عرب ممالک سے آئے منچلے کھلے عام شاہرائوں پر نہ صرف گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ کرتے ہیں بلکہ شیشہ نوشی کا بھی ارتکاب کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں ایسے ہی چند واقعات پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چند روز پیشتر رات کے سوا آٹھ بجے نائیٹسبریج پولیس کو فون پر کسی نے شکایت کی کہ شہر کے وسط میں ایک مرکزی شاہرا پر کسی نے غیر قانونی پارکنگ کر رکھی ہے جس سے ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا ہو رہا ہے، نیز پارکنگ کرنے والے افراد سرے عام شیشہ نوشی بھی کر رہے ہیں۔ پولیس نے شکایت کی تصدیق کے بعد چھاپہ مارا تو واقعی وہاں پر عرب ممالک سے سیرو سیاحت کی غرض سے آئے کئی منچلوں نے اپنی چار کاریں سڑک کے بیچ کھڑی کر رکھی تھیں اور وہ خود نشے میں دھت شیشہ نوشی میں مصروف تھے۔

شکایت کندگان کا کہنا تھا کہ انہوں ‌نے عرب گانوں اور موسیقی کی دھن میں شیشہ نوشی کرنے والے نوجوانوں کو غیر قانونی پارکنگ سے منع بھی کیا مگر انہوں نے کوئی بات نہیں سنی۔ ایک عرب شہری نے اپنی کار مشہور شاپنگ مال 'ہیرڈز' کے قریب ٹاپ شاپ شاپنگ سینٹر کے سامنے کھڑی کر رکھی تھی، جس کے نتیجے میں نہ صرف سڑک پر ٹریفک میں خلل پیدا ہو رہا تھا بلکہ شاپنگ کے لیے آنے والے شہریوں کو بھی مشکلات درپیش تھیں۔

مقامی شہریوں نے بتایا کہ شاپنگ سینٹر کے باہر سڑک پر کار کھڑی کرکے دو افراد کرسیوں پر بیٹھے شیشہ نوشی کررہے تھے۔ غالبا انہوں نے یہ شیشہ وہیں قریب عرب اور لبنانی کھانوں کے ایک ہوٹل سے لے رکھا تھا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مقامی میڈیا کے ذریعے "ٹاپ شاپ" شاپنگ سینٹر کے قریب ایک لبنانی ہوٹل کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

گراں قیمت گاڑیاں

وسطی لندن میں گھومنے والے غیر ملکی امراء کے صاحبزادے بالخصوص عرب نوجوان نہ صرف من مانی کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ ان کے زیر استعمال مہنگی ترین کاروں سے ان کی دولت کی فراوانی کا بھی بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔"نائیٹس بریج" ویسے بھی عربوں اور غیر ملکیوں کا مرکز کہلاتا ہے۔ یہاں پر 15 عرب ریستوران عرب نوجوانوں کی 'خدمت' پر مامور رہتےہیں۔

عرب نوجوان مقامی سطح پر گراں قیمت کاروں کو کرائے پر لیتے اور لندن کی سڑکوں‌پر دوراتے ہیں۔ اکثر کئ پاس ڈرائیونگ لائسنس تک نہیں ہوتا۔ اس نوعیت کے کئی واقعات ماضی میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ گذشتہ برس پولیس نے غیر قانونی طور پر پارک کی گئی "لیمبورگینی" کار کے ملک کی شناخت کی تو وہ بھی ایک عرب نوجوان نکلا اور اس کے زیر استعمال کار کی قیمت پانچ لاکھ ڈالر سے زیادہ تھی۔

پولیس کے مطابق غیر قانونی پارکنگ کرنے والے 24 سالہ عرب نوجوان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تھا اور نہ کار کی انشورنس کی گئی تھی۔ حتیٰ کہ کار کی اگلی جانب کی نمبر پلیٹ بھی غائب تھی۔ وہ بھی کار کو سڑک کے بیچ کھڑی کر کے شیشہ نوشی میں مصروف تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں