سعودی اخبار کا 'دی انڈی پینڈینٹ' پر سرقے کا الزام

"روضہ رسول کو الگ تھلگ کرنے کو شہید کرنے پر محمول کیا گیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب سے شائع ہونے والے ایک روزنامے کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف نے برطانیہ کے ایک موقر اخبار دی انڈی پینڈینٹ پر سرقے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے ان کے ایک صحافی کی محنت پر ڈاکا ڈالا ہے۔

انڈی پینڈینٹ نے اپنی سوموار کی اشاعت میں یہ لکھا تھا کہ ''پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ میں روضہ مبارک کو شہید کیا جاسکتا ہے اور ان کے جسد خاکی کو کسی نامعلوم قبر میں منتقل کردیا جائے گا''۔اس تحریر سے ہی عیاں تھا کہ اخبار نے مسئلے کی نزاکت کا خیال نہیں کیا ہے۔

سعودی روزنامے مکہ کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف موفق النویصر نے بدھ کو ایک ادارتی تحریر میں یہ بتایا ہے کہ ''برطانوی روزنامے ''مکہ'' میں 25 اگست کو شائع شدہ ایک عربی مضمون کا بالکل غلط ترجمہ کیا ہے اور وہ اس کے مندرجات کو سمجھنے سے قاصر رہا ہے''۔

موفق النویصر نے اپنے مضمون میں دی انڈی پینڈینٹ پر مواد کی چوری کا الزام عاید کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو الگ تھلگ کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں، شہید کرنے کے نہیں۔ انھوں نے برطانوی روزنامے پر ماضی میں بھی اپنے اخبار کے مواد کو چرانے کا الزام عاید کیا ہے۔

اخبار مکہ میں مضمون لکھنے والے سعودی صحافی عمر المضواحی نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر ان کا میرے کام کو چرانے پر اصرار ہے تو کم سے کم انھیں مجھے اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ میں انھیں بالکل درست ترجمہ فراہم کرسکوں اور مجھے یہ کام کرکے بہت خوشی ہوگی''۔

انھوں نے بتایا کہ ''انھوں نے پہلے سعودی ماہر تعلیم ڈاکٹر علی بن عبدالعزیز الشبل کے ایک تحقیقی مطالعے کی روشنی میں منظرعام پر آنے والی ایک تجویز کے بارے میں لکھا تھا اور یہ کتاب دونوں مقدس مساجد (مسجد حرام اور مسجد نبوی) کے انتظام وانصرام کی ذمے دار جنرل پریزیڈنسی کی جانب سے شائع کی گئی تھی۔

دی انڈی پینڈینٹ کے ڈپٹی مینجنگ ایڈیٹر ول گور نے سرقے کے الزامات کے حوالے سے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ ایک ہفتہ قبل مکہ میں شائع ہونے والی رپورٹ سے آگاہ نہیں تھے''۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے مضمون کی معلومات ایک سعودی ماہر تعلیم ڈاکٹر عرفان العلاوی کی فراہم کردہ تھیں اور انھوں نے ڈاکٹر علی بن عبدالعزیز الشبل کی رپورٹ کا براہ راست مطالعہ کیا تھا۔نیز یہ مضمون سعودی حکام کے حالیہ برسوں کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات کے بارے میں طرزعمل کے حوالے سے حالیہ دی انڈی پینڈینٹ میں شائع ہونے والے مضامین ہی کا تسلسل تھا۔

انڈی پینڈینٹ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی یہ ایک خاص اسٹوری ہے اور برطانیہ کی بہت سی نیوز سائٹس نے اس اسٹوری کو آگے چلاتے وقت اخبار ہی کو اس کا کریڈٹ دیا ہے کہ اس نے ہی اس اسٹوری کا پہلی مرتبہ انکشاف کیا تھا مگر برطانوی اخبار نے یہ مضمون شائع کرتے وقت اس کے مندرجات کا باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا تھا جس کی وجہ اس کو سُبکی کا سامنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں