.

اسرائیل کے 10 شہری "داعش" میں شامل ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام 'داعش' کی صفوں میں یورپی، ایشیائی ، عرب اور دیگر ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے دس شہریوں کی شمولیت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اس انکشاف کے بعد عالمی برادری کی داعش میں غیر ملکیوں کی شمولیت کے بارے میں تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اسرائیلی اخبار "اسرائیل ٹو ڈے" کی رپورٹ کے مطابق داخلی سلامتی سے متعلق ادارے"شین بیت" نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی شہریت رکھنے والے دس افراد "داعش" کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش میں بھرتی ہونے والے دس شہریوں کے بارے میں معلومات کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے بند کمرہ اجلاس میں اسرائیلی شہریوں کی داعش میں شمولیت روکنے پر غور کیا گیا۔

اخباری رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے نہ سنہ 2011ء میں شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کی تحریک کے دوران اب تک سیکڑوں عرب۔اسرائیلی باشندے اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ فلسطین سے شام میں جنگ میں‌ شامل ہونے والے افراد مختلف گروپوں میں بھرتی ہوئے۔ مقبوضہ فلسطین سے کم سے کم 25 ایسے افراد کی شام کی جنگ میں شمولیت کی تصدیق ہوئی ہے جو نظریاتی طور پر انتہا پسندی میں مشہور رہے ہیں۔

پچھلے دو سال کے دوران شام کی جنگ میں شرکت کے بعد واپس آنے والے متعدد افراد کو اسرائیلی پولیس نے گرفتار بھی کیا ہے۔ رواں سال اسرائیل کی ایک عدالت میں 23 سالہ احمد شوریجی نامی شہری کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔ ام الفحم شہر سے تعلق رکھنے والے شوریجی پر الزام ہے کہ وہ شام میں داعش میں بھرتی ہوا جہاں اس نے حکومت کے خلاف کئی معرکوں میں حصہ لیا ہے۔