.

قطر: انسانی حقوق کے دو برطانوی کارکن زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے دو کارکنان کی گرفتار کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔

ناروے سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم گلوبل نیٹ ورک برائے حقوق اور ترقی (جی این آر ڈی) کے لیے کام کرنے والے دو برطانوی شہری کرشنا پرساد اُپدھیا اور گھمیری گندیو گذشتہ ایک ہفتے سے لاپتا تھے۔ وہ 27 اگست کو دوحہ آئے تھے اور انھوں نے 31 اگست کی صبح وہاں سے لوٹ جانا تھا۔

اس غیر سرکاری تنظیم کے پروگرام مینجر علا ابو ذکا نے العربیہ نیوز کو بتایا ہے کہ یہ دونوں حضرات اس روز صبح اپنے ہوٹل سے اپنا سامان باندھ کر واپسی کے لیے روانہ ہوئے تھے لیکن وہ دراصل ہوٹل سے باہر نکلے ہی نہیں۔ وہ ہوائی اڈے پر پہنچے اور نہ پرواز پر سوار ہوئے تھے۔

قطری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ان دونوں برطانوی شہریوں کی 31 اگست کو گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان سے ریاست قطر کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان دونوں کے خلاف انسانی حقوق کے اصولوں اور ریاستِ قطر کے قوانین کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔

قطر کی سرکاری خبررساں ایجنسی کیو این اے کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ''وزارت خارجہ اور تفتیشی حکام اس سلسلے میں دوحہ میں برطانوی سفارت خانے سے براہ راست رابطے میں ہیں''۔

ناروے میں قائم انسانی حقوق کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے دونوں محققین قطر میں نیپالی تارکین وطن سے ناروا سلوک کی تحقیقات کے لیے گئے تھے۔ابو ذکا کا کہنا تھا کہ ''جی این آر ڈی نے قطری حکام سے ان دونوں کا اتا پتا بتانے کی درخواست کی ہے اور ہم ان کی جلد رہائی اوربرطانیہ واپسی کے لیے کام کررہے ہیں''۔

واضح رہے کہ اس سال کے اوائل میں قطر میں 2022ء میں ہونے والے فیفا عالمی کپ فٹ بال ٹورنا منٹ کے انعقاد کے سلسلے میں اسٹیڈیمز کی تعمیر کا کام کرنے والے نیپالی تارکین وطن کے حوالے سے یہ شکایات سامنے آئی تھیں کہ ان سے ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، انھیں کام کے مقابلے میں کم اجرت دی جا رہی ہے اور سخت حالات میں کام کے باوجود ان کے انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ ایسی رپورٹس سامنے آنے کے بعد سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں قطر میں تارکین وطن کو درپیش مسائل کی تحقیقات کر رہی ہیں۔