.

اوباما عراق میں جنگ کرنے والے امریکی صدور میں شامل

عراق ربع صدی سے چار امریکی صدور کی جنگجوں کا سامنا کر چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی سر زمین امریکیوں کے لیے پچھلے کئی سال سے میدان جنگ ثابت ہو رہی ہے۔ بلاد الرافدین میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام المعروف "داعش" کے خلاف امریکی صدر براک اوباما نے اعلان جنگ کیا ہے۔ عراق میں فوجی کارروائی کے لیے کسی امریکی صدر کا یہ پہلا اعلان نہیں بلکہ واشنگٹن گذشتہ چوبیس سال سے عراق کےخلاف برسرجنگ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ربع صدی پر محیط عرصے میں سابق صدر جارج ڈبلیو بش سینئر، بل کلنٹن، جارج بُش جونیئر اور اب براک اوباما امریکا اور پوری دنیا کی 'سلامتی' کے لیے عراق میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہر بار امریکی صدور کی جانب سے عراق میں فوجی کارروائی کے لیے ایک ہی جیسے نعرے، دعوے اور خطرات کا اظہار کیا گیا۔

جنوری سنہ 1991ء میں جارج بش نے صدام حسین کو کویت پر چڑھائی کا سبق سکھانے کے لیے عراق پر حملہ کیا۔ سنہ 1998ء میں بل کلنٹن نے غیر معمولی تباہی پھیلانے والے صدام کے ہتھیاروں کے خفیہ ٹھکانوں پر حملوں کی آڑ میں کارروائی شروع کی۔

مارچ 2003ء میں جارج بش جونیئر نے بل کلنٹن کے دعوے کو آگے بڑھاتے ہوئے صدام حسین کو اور اس کے اسلحہ کے ذخائر کو پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر بغداد پر چڑھائی کی۔ رواں سال اگست کے اوائل میں دو امریکی صحافیوں کے داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھوں مبینہ قتل کے بعد امریکا نے ایک مربتہ پھر عراق کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔