.

"داعش کے زوال سے دہشت گردی ختم نہیں ہو گی"

عالمی اتحاد شامی اپوزیشن کی بھی مدد کرے: :سعود الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام" داعش" صرف شام اور عراق کے لیے خطرہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی دہشت گرد تنظیم ہے اور اسے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش کے زوال سے دہشت گردی کمزور ضرور ہو گی مگر اسے جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پیریس میں داعش کےخلاف کارروائی کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ داعش کا خطرہ شام اور عراق کی جغرافیائی حدود سے باہر دوسرے ممالک تک پھیل چکا ہے۔ اب پوری دنیا کو اس خطرے کی روک تھام کے لیے مل کر جنگ لڑنا ہو گی۔

انہوں نے داعش کے خطرے کی روک تھام کے حوالے سے بین الاقوامی امن کانفرنس کا اہتمام کرنے پر فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کو مبارک باد پیش کی اور یقین دلایا کہ ریاض دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

سعودی وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں شام اور عراق کی داخلی صورت حال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عراق اس وقت چوراہے پر کھڑا ہے، جہاں سیاسی انارکی اور فرقہ وارانہ تشدد دو بڑے مسائل ہیں۔ عراق کو ان دونوں مسائل کے حل کے لیے جہاں سیاسی قیادت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہیں دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے غیر ملکی مداخلت بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ عراق میں نئی قومی حکومت کی تشکیل کے بعد سیاسی بحران کے خاتمے کی ایک کرن پھوٹی ہے ورنہ سابقہ حکومت نے ملک کو افراتفری سے دوچار کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی تھی۔

کانفرنس میں عراقی صدر فواد معصوم بھی موجود تھے۔ شہزادہ سعود الفیصل نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صدر معصوم نے ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے قابل قدر کوششیں کی ہیں۔ ان کی ان مساعی میں پوری عالمی برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ عراق میں سیاسی استحکام اور گڈ گورننس کے لیے مزید سیاسی اصلاحات لانے کی اشد ضرورت ہے۔

سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عراق میں دہشت پھیلانے والی تنظیم"داعش" مقامی لوگوں کی نمائندہ نہیں بلکہ باہر سےآنے والے دہشت گردوں پر مشتمل تنظیم ہے جس کے تانے بانے دنیا کے دوسرے ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ شام میں جاری داخلی سیاسی شورش سے فائدہ اٹھا کر اس تنظیم نے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن داعش سمیت دین کے نام پردہشت گردی کرنے والے تمام گروپوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

انہوں‌ نے کہا کہ شام میں صدر بشار الاسد کی جانب سے اپنے عوام پر مظالم کے نتیجے میں دہشت گرد گروپوں کو پنپنے کا موقع ملا۔ داعش جیسے گروپ شام ہی میں منظم ہوئے۔ وہیں ان کے جنگجوؤں کی ٹریننگ ہوئی اور وہیں سے انہوں نے اپنی جارحیت کو دوسرے ملکوں تک پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے شام کے مسئلے کا حل بھی از بس ضروری ہے۔ عالمی برادری کا داعش کے خلاف کارروائی کے لیے اتحاد قابل تحسین ہے۔ اسی اتحاد کو شامی اپوزیشن کی حمایت میں بھی کھڑا ہونا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے گڑھ سے اسے ختم کیا جا سکے