ہم خون کے پیاسے اور پیتے بھی ہیں: داعشی جنگجو

ہمیں اللہ کے لیے موت اتنی ہی پسند ہے،جتنی آپ کو زندگی:ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ نے اپنی سفاکانہ کارروائیوں ،بڑے پیمانے پر اجتماعی قتلوں اور مخالفین کے سرقلم کرنے سے دنیا کو ہکا بکا تو پہلے ہی کررکھا ہے،اب اس کے ایک جنگجونے ایک اور تحیّر آمیز بیان جاری کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ خون کا پیاسا ہی نہیں بلکہ وہ خون پیتا بھی ہے۔

داعش کے اس جنگجو کا نام ربیع شہادہ ہے اور وہ ''فلسطینی قصاب'' کے نام سے مشہور ہے۔اس نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر اپنی ویڈیو پوسٹ کی ہے۔اس میں اس نے قسم کھا کر کہا ہے کہ ''ہم وہ لوگ ہیں جو اللہ کے لیے موت کو پسند کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح آپ لوگ زندگی کو پسند کرتے ہو۔میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم لوگ خون پینا پسند کرتے ہیں۔ہم آپ کو ذبح کرنے آرہے ہیں''۔

اب یہ معلوم نہیں کہ اس چھبیس سالہ جنگجو کا مخاطب اہلِ مغرب ہیں یا کوئی اور۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے شمالی شہر النَّاصِرَة سے تعلق رکھتا ہے۔اس شہر میں فلسطینی عربوں کی اکثریت ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی تحقیق کے مطابق داعش کے اس جنگجو نے النَّاصِرَة الیت میں ایک کالج سے میکنیکل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا اور صرف تین ماہ کے بعد ہی اعلیٰ تعلیم ادھوری چھوڑ کر اچانک غائب ہوگیا تھا۔

بعد میں یہ پتا چلا کہ وہ پہلے اسرائیل سے ترکی گیا تھا اور پھر وہاں سے سرحد عبور کر کے شام پہنچ گیا تھا جہاں اس نے پہلے شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحُر میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن بعد میں وہ انتہا پسند جنگجو گروپ داعش میں شامل ہوگیا تھا۔

داعش میں اس نے اپنی کُنیت ابو مصعب الصفوری رکھ لی تھی۔الصفوری النَّاصِرَة کے نزدیک واقع ایک گاؤں ہے جہاں سے وہ تعلق رکھتا ہے۔العربیہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس کی داعش میں شمولیت کا پتا چلنے کے بعد سے اس کا خاندان صدمے سے دوچار ہے اور وہ اس کے بارے میں کوئی گفتگو کرنے سے کترا رہا ہے۔اس کی ایک بیوی اور بیٹا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں