.

داعش کے جنگجو کی نوبیاہتا دُلھن کی ڈائری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو تنظیم دولتِ اسلامی (داعش) کی سفاکیت ،وحشت اور مظالم کے قصے تو زبان زد عام ہیں لیکن کیا داعش کے تمام جنگجو ظالم اور سفاک ہیں،یہ نتیجہ اخذ کرنا شاید مکمل طور پر درست نہ ہو کیونکہ اس کی صفوں میں جمالیاتی احساسات رکھنے والے بھی موجود ہیں۔

ایسے ہی ایک جنگجو اور اس کی ملائشین دُلھن کی کہانی سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آئی ہے۔یہ ملائشین کوئی عام خاتون نہیں بلکہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہے۔وہ ترکی کے راستے جنگ زدہ شام میں آئی تھی جہاں اس نے داعش کے ایک جنگجو سے شادی کرلی۔

وہ سوشل میڈیا پر ''ایک مہاجرہ کی ڈائری'' کے عنوان سے اور شمس کے نام سے بلاگ لکھ رہی ہے۔اس 26 سالہ ملائشین ڈاکٹر نے لکھا ہے کہ اس نے اس سال فروری میں شام آمد کے بعد داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔وہ اس وقت بہت خوش تھی لیکن ساتھ ہی خاندان کو چھوڑنے پر افسردہ بھی تھی۔پہلے پہل تو اس کے والدین بہت پشیمان ہوئے لیکن بعد میں وہ خوش ہوگئے اور انھوں نے اس مہاجرہ کی حمایت شروع کردی تھی۔

شمس کا کہنا ہے کہ شام آنے کے دوماہ کے بعد اس کی داعش کے ایک جنگجو کے ساتھ ایک جاننے والے کے ذریعے شادی ہوئی تھی۔جس روز اس کی اپنے ہونے والے خاوند سے پہلی ملاقات ہوئی تھی،اسی روز ان کی شادی ہوگئی تھی۔

اس ملاقات کے حوالے سے اپنے احساسات اور تاثرات بیان کرتے ہوئے شمس نے لکھا ہے:''وہ مسکرایا اور مجھ سے ایک سوال کیا جو میں ساری زندگی نہیں بھلا پاؤں گی۔ اس نے کہا:''کیا ہم آج نمازِ عصر کے بعد شادی کرسکتے ہیں؟''

''اس سوال کے جواب میں میرے دل کی گہرائیوں نے کہا ''نہیں'' لیکن مجھے کوئی آئیڈیا نہیں کہ میں نے کب ہاں کردی۔پھر میں نے فون پر اپنے والد سے اجازت طلب کی۔ جب میں فون پر بات کررہی تھی تو پیچھے سے میری ماں کے خوشی سے چلاّنے کی آواز سنائی دے رہی تھی''۔

اس کے بہ قول داعش میں نوبیاہتا جوڑوں کی زبان کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا عام نہیں ہے۔''ہم دونوں کی زبان ایک دوسرے سے مختلف تھی۔شادی کے بعد ہم نے ایک دوسرے سے بات چیت کے لیے ڈکشنری ڈاؤن لوڈ کر لی۔شادی کی صبح جب میرا خاوند نماز ادا کرکے گھر لوٹا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔میں تب اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کررہی تھی اور وہ یہ کہ میں کسی سے محبت کرتی ہوں اور یہ محبی میرا خاوند ہے''۔

شادی کے چار روز کے بعد وہ ایک خاتون کے گھر گئی تو اس پر یہ حقیقت کھلی کہ اس کی تو داعش کے ایک جنگجو سے شادی ہوئی ہے کیونکہ اس خاتون کا خاوند ایک لڑائی میں مارا جاچکا تھا اور وہ بیوہ تھی۔میں اس گھرمیں داخل ہوئی تو اس میں قریباً بیس بہنیں تھیں لیکن ان میں سے کوئی چلا نہیں رہی تھی۔

وہ مزید لکھتی ہے :''میں گھر لوٹی تو میرا خاوند خاموش تھا۔شاید وہ جان چکا تھا کہ مجھے ابھی کچھ وقت کی ضرورت ہے ۔میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور کہا:''ابوالبراء (خاوند) مجھے اتنی جلد اکیلا چھوڑ کر نہ جائیں''۔

حلال مذاق

داعش کے جنگجو کی اہلیہ نے اپنے بلاگ میں ایک اور پوسٹ میں خاوند کے ساتھ گفتگو پر مبنی ایک حلال مذاق کا ذکر کیا ہے۔ان دونوں کے درمیان جو مکالمہ ہوا،وہ کچھ یوں تھا:

بیوی: ماشاء اللہ۔ آج آپ بہت خوبصورت لگ رہے ہیں۔
خاوند:واقعی ؟ مسکراتے ہوئے۔
بیوی: ہاں حبیبی۔حتیٰ کہ چاند بھی آپ پر حسد کررہا ہوگا۔
خاوند۔آہا میری اہلیہ! میں آج آپ کو رات کے کھانے پر باہر لے جارہا ہوں۔
خاوند: ماشاء اللہ آپ آج بہت خوب صورت لگ رہی ہیں۔
بیوی: کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ میں ہر روز بد صورت نظر آتی ہوں۔منہ بسورتے ہوئے۔
خاوند: نہیں ،نہیں پیاری۔آپ دیکھ سکتی ہیں۔آج آپ کی خوب صورتی پر تو چاند بھی حسد کررہا ہوگا۔
بیوی: آج بارش ہورہی ہے اور چاند نہیں نکلا ہے۔اچھا مذاق ہے۔آج رات کا کھانا بھی نہیں ہوگا۔

زندگی کی حقیقت

شمس لکھتی ہے کہ ''شادی کے گیارھویں روز خاوند ایک آپریشن کے سلسلے میں گھر سے باہر گیا تھا۔یہ میرے لیے شام آنے کے بعد سب سے دلخراش واقعہ تھا۔میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اور میں اپنے آنسوؤں کو ضبط نہیں کرپا رہی تھی''۔

''ناشتے کے بعد میں نے اپنے میاں کا بیگ تیار کیا اور کلاشنکوف اس کے ہاتھ میں تھمائی۔میں اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھ پائی تھی اور درد مجھے مارے جارہا تھا۔اس نے میرے اترے ہوئے چہرے کو دیکھا اور مجھ سے یوں مخاطب ہوا:''پیاری میں نے آپ سے پہلے جہاد سے شادی کررکھی ہے۔ جہاد میری پہلی بیوی ہے اور تم دوسری ہو۔مجھے امید ہے تم بات سمجھ گئی ہوگی''۔

پھر اس نے مجھے بوسا دیا اور چلا گیا۔میں دروازے پر اس امید کے ساتھ کھڑی رہی کہ وہ لوٹ آئے گا اور دستک دے گا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ابھی ہمارے نکاح کو گیارہ روز ہی ہوئے تھے لیکن ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم گیارہ سال سے اکٹھے رہ رہے ہوں۔

''اب یہ ایک معمول بن گیا ہے۔ہر مرتبہ جب وہ گھر سے جاتا ہے تو میں اپنے آپ کو باور کراتی ہوں کہ یہ میری اس کے ساتھ آخری ملاقات ہے۔وہ ہر مرتبہ مجھ سے یہی کہتا ہے:''اگر میں لوٹ کر نہ آؤں تو پھر شاید ہم جنت میں ملیں گے۔ان شاء اللہ''۔

اگست میں شمس نے لکھا تھا کہ ''وہ اپنے پہلے بچے کی ماں بننے والی ہے اور باقاعدگی سے ایک مقامی اسپتال میں ڈاکٹری معائنے کے لیے جارہی ہے''۔