.

اسرائیل’’محمد‘‘ اور ’’احمد‘‘ ناموں سے خوف زدہ کیوں؟

سرکاری رپورٹ میں عربی کے بجائے عبرانی ناموں کی تشہیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی عرب اور اسلامی تشخص کو مٹانے ہوئے ان پر عبرانیت کا رنگ چڑھانے کی اسرائیلی سازشوں کے بعد نیتن یاہو حکومت کا اس نوعیت کا ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔

برطانوی اخبار’’ڈیلی میل‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ ’’محمد‘‘ اور ’’احمد‘‘ طرح کے مقبول عام ناموں سے سخت خوف زدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربی ناموں کو حذب کرنے اور انہیں چھپانے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکام عرب شہریوں میں غیر معروف عبرانی ناموں کی تشہیر کی کوشش کر رہے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیل کے محکمہ ایمیگریشن اور آبادکاری کی جانب سے حال ہی میں مقبوضہ فلسطین میں سال کے 10مقبول ترین ناموں کی ایک فہرست مرتب کی گئی جس میں پہلے نمبر ’’محمد‘‘ اور نویں نمبر پر’’احمد‘‘ نام آیا لیکن حکام نے دانستہ طور ان دونوں ناموں کا کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ عبرانی ناموں کی تشہیر کی۔

یوں اسرائیلی محکمہ ایمیگریشن کی جانب سے بتایا گیا کہ سال 2014ء کے دوران بچوں میں یوسف، ڈینیل، اروی، ایتائی، عمر، آدم، ناعوم، ارئیل، ایتن اور ڈیوڈ جیسے نام سب سے زیادہ مقبول ہوئے۔ حالانکہ اس فہرست میں پہلے نمبر پر مقبول ترین نام’’محمد‘‘ تھا جسے مکمل طور پر حذف کر دیا گیا اور سرکاری رپورٹس میں عرب شہریوں میں مقبول ناموں کا کوئی تذکرہ تک نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کی سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال میں بچیوں میں سب سے زیادہ ’’تمار‘‘ نام رکھا گیا جبکہ پچھلے چودہ سال تک ’’نوا‘‘ نام چھایا رہا ہے۔ ان ناموں کے علاوہ بچیوں کے لیے شیرا، ادیل، یائیل، تالیا، لیان، میریام، مایا، افیجیل، مشہور رہے ہیں۔ مریم، لیان اور مایا جیسے نام عربوں اور یہودیوں دونوں میں یکساں مقبول ہیں۔

فلسطینی شہریوں کے ہاں مقبول ترین ناموں کو حذف کیے جانے کا انکشاف اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں کیا ہے اور ڈیلی میل نے اسی رپورٹ کی بنیاد پر بتایا کہ اسرائیل دانستہ طور پر عرب شہریوں میں مقبول ناموں کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ اخبارات نے استفسار کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور انتظامیہ کو محمد اور احمد جیسے مقبول عربی ناموں سے آخر کیا خوف لاحق ہے کہ انہوں نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ان کا تذکرہ تک کرنا مناسب نہیں سمجھا حالانکہ یہ دونوں نام سال کے مقبول عام ٹاپ 10 میں رہے۔

گذشتہ برس بھی اسرائیلی حکومت کی جانب سے سال کے مقبول ٹاپ 10 ناموں کی فہرست جاری کی تھی، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس رپورٹ میں کس حد تک ڈنڈی مانے کی کوشش کی گئی تھی۔ رواں سال کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اسرائیل میں اس سال ایک لاکھ 76 ہزار 230 بچے پیدا ہوئے۔ ان میں 90 ہزار 230 بچے اور 85 ہزار 584 بچیاں ہیں۔