سعودی شہری کا پانچ عشروں بعد اپنے خاندان سے ملاپ

اہل خانہ نے عبداللہ التویجری کو پاکستان سے ڈھونڈ نکالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کسی شخص کا اپنے خاندان سے بچھڑ جانا بلا شبہ ایک المناک واقعہ ہوتا ہے اور جب تک بچھڑے شخص کو تلاش نہ کر لیا جائے خاندان کے افراد چین سے نہیں بیٹھتے چاہے اس میں طویل مدت ہی کیوں نہ گذر جائے۔

سعودی شہر عبداللہ التویجری کی بھی کچھ ایسی ہی داستان ہے۔ وہ اپنے خاندان سے 47 سال تک بچھڑا رہا لیکن اہل خانہ نے اس کی ایک بار پھر ملاقات کی امید کی شمع بجھنے نہیں دی اور آخر کار وہ اسے ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔

یہ کوئی افسانوی کہانی نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے کہ 67 سالہ عبد اللہ سنہ 1388ھ میں سعودی عرب میں ایک پرائمری اسکول میں ترک تعلیم کے بعد اچانک لاپتا ہو گیا۔ اہل خانہ نے اندرون اور بیرون ملک جہاں کہیں اس کے بارے میں خبر یا افواہ سنی تلاش کی مقدور بھر کوشش کی۔

عبداللہ کے چچا زاد ایڈووکیٹ صالح نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی گمشدگی اور سینتالیس سال بعد دوبارہ ملاپ کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں ‌نے کہا کہ اسکول سے فرار کے بعد ان کے خاندان کے تمام افراد نے عبداللہ کو اسپتالوں اور ملک بھر کے پبلک مقامات پر تلاش کرنے کی کوشش کی۔ جب کوئی پتا نہ چلا تو سب تھک ہار کر بیٹھ گئے لیکن عبداللہ کی اچانک کسی دن آ موجود ہونے کی امید پھر بھی قائم رہی۔

عبداللہ کے غائب ہونے کے 16سال بعد 1404ھ میں سرحدی علاقے عرعر میں ایک عزیز نے بتایا کہ عبداللہ کو عراق میں دیکھا گیا ہے۔ ہم اس کے ممکنہ ٹھکانے کی تلاش کے لیے نکل پڑے لیکن اس کا عراق میں بھی کچھ پتا نہ چلا۔

کوئی ایک ماہ قبل وٹس آپ کے ذریعے عبداللہ التویجری نامی ایک شخص کی تصویر اس کے اہل خانہ کی نظر سے گذری تو انہوں نے اسے پہچان لیا۔ اس وقت عبداللہ پاکستان میں تھا اور پچھلے کئی سال سے یہیں رہ رہا تھا۔ اہل خانہ نے پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے اس تک رسائی کی کوشش کی اور بالآخر اس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

صالح نے بتایا کہ پیرانہ سالی کے باوجود عبداللہ کی یاداشت اچھی ہے۔ اس نے پاکستان میں قریبا ربع صدی کا عرصہ گذرا ہے۔ پاکستان میں اس کی کفالت ایک برطانوی خاتون کر رہی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان سے بچھڑنے کے بعد عراق اور ایران سے ہوتا ہوا پاکستان پہنچا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں