.

آسٹریلیا: خواتین کا سکارف اوڑھ کر مسلمان خواتین سے اظہار یکجہتی

غیر مسلم خواتین کی نماز عید میں شرکت ، پھول بھی پیش کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی غیر مسلم خواتین کے ایک گروپ نے مسلمان خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سروں پر سکارف اوڑھ کر مسلمان خواتین کو گلدستے پیش کیے۔

آسٹریلین غیر مسلم خواتین کے ایک گروپ کی طرف سے یہ خوشگوار انداز ایک ایسے موقع پر سامنے ایا ہے جب پوری مغربی دنیا کے علاوہ آسٹریلیا میں بھی سکارف اور حجاب کے خلاف ایک جارحانہ مہم جاری ہے۔

آسٹریلوی خواتین نے یہ اہتمام عید الاضحی کے موقع پر کیا اور اسلامی مراکز میں نمازعید کے لیے جانے والی مسلمان خواتین کو محبت اور مسکراہٹوں کے ساتھ گلدستے پیش کیے۔ آسٹریلوی دارالحکومت کینبرا میں لگ بھگ ایک درجن غیر مسلم عورتوں نے اس خوشگوار اظہار یکجہتی میں حصہ لیا۔

ان خواتین کا کہنا تھا "ہم اپنی مسلمان دوستوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ حالیہ واقعات اور اسلام مخالف بیانات کی وجہ سے حوصلہ نہ ہاریں، ہم ان کے ساتھ روا رکھے گئے نامناسب رویے پر ان سے معذرت خواہ ہیں۔"

ان غیر مسلم خواتین نے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یہ بھی کہا "ہم آپ سے نفرت نہیں ، محبت کرتی ہیں، اسی لیے ہم سکارف پہن کر آپ کو پھول پیش کرنے آئی ہیں۔"

اس حوالے سے 26 سالہ انابیلی لی نے کہا "ہماری طرف سے سروں پر سکارف اوڑھنے اور انہیں پھول پیش کرنے پر شروع میں مسلمان عورتوں نے محتاط انداز اختیار کیا لیکن بعد ازاں ان خواتین نے بھی خوشگوار رد عمل ظاہر کیا۔"

انابیلی نے مزید کہا '' ہم نے مسلمان عورتوں اور بچوں کو پھول پیش کیے اور بعد میں بروس سٹیڈیم میں نماز عید میں بھی شرکت کی، اس موقع پر بعض مسلمان مردوں نے اپنی بیگمات کے لیے بھی پھولوں کا تحفہ دینے کو کہا۔"

اسلامک سوسائٹی کے نائب صدر حسن وارثی نے کہا "یہ انداز مسلمانوں کو کافی اچھا لگا ہے، یہ اچھا اظہار ہے کہ لوگ آگے آرہے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو رہے ہیں۔"