.

امریکی خاتون ای میل پر طلاق لے سکے گی

سعودی شوہر کے بچوں سمیت امریکا چھوڑ جانے پر عدالتی فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی عدالت نے اپنے تین بچوں کے ساتھ ملک چھوڑ کر چلے جانے والے سعودی شوہر سے ای میل پر طلاق لینے کا اس کی امریکی بیوی کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔

امریکی خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس کی جون 2004 میں ایک سعودی طالبعلم سے شادی ہوئی تھی۔ وہ پنسلوانیا یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری کے حصول کے لیے امریکا میں موجود تھا۔

لیکن پچھلے سال 24 نومبر سے تینوں بچوں کے ساتھ امریکا کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔ اس کی اہلیہ نے الزام لگایا ہے کہ '' اس دوران اس نے مجھے بچوں کو دیکھنے اور ملنے کے حق سے بھی محروم کر دیا ہے ۔''

اس صورت حال پر رنجیدہ خاتوں نے عدالت سے استدعا کی اسے اس کے ''شوہر سے ای میل کے ذریعے طلاق دلوائی جائے کیونکہ اس کے علاوہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ نہیں چاہتی ۔ ''

خاتون کا عدالت میں کہنا تھا '' میں ایک ایسے شخص سے شادی کر کے ٹوٹ گئی ہوں جس نے مجھے میرے بچوں سے بھی محروم کر دیا ہے، میں اس کی وجہ سے اپنے بچوں کو دیکھ بھی نہیں سکتی ، اس شخص نے ہماری زندگی کو قابل رحم بنا دیا ہے۔''

امریکی جج نے تین بچوں نو سالہ محمد، سات سالہ ابراہیم ، اور پانچ سالہ الیاس کی والدہ جسیکا کی استدعا منظور کرتے ہوئے اسے ای میل پر طلاق کا حق دار قرار دیا۔

امریکی عدالت نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ جسیکا اس فیملی کار پر بھی حق رکھتی ہے جس کی پچھلے سال سے رجسٹریشن کی تجدید نہیں ہو سکی ہے۔ جج رابرٹ سکفی نے خاتون کے شوہر کے بچوں کے اغواء کے الزام میں وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔

اس موقع پر امریکی عدالت کے جج نے قبل ازیں دونوں میاں بیاوی کے درمیان ای میل پر ہونے والی خط و کتابت کا بھی جائزہ لیا۔

واضح رہے امریکی قانون کے مطابق بچوں کو ماں کے پاس رکھے جانے کا حکم ہے۔ جبکہ سعودی شوہر پچھلے ایک سال سے اس قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ جسیکا نے اپنے شوہر کے خلاف ماہ اپریل میں مقدمہ دائر کیا تھا۔