.

شام میں مسلح بغاوت کے دوران 60 ہزارعلویوں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں تخت اقتدار کے وارث علوی قبیلے کو صدر بشارالاسد کے دفاع میں پچھلے تین سال سے جاری مسلح بغاوت کے دوران بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اس قبلے کے کم سے کم 60 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ایک لاکھ زخمی ہو کر اپاہج ہوئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام میں جیسے جیسے صدر بشارالاسد کی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے ایسے میں علوی قبیلے کی صدر اسد کے ساتھ ہمدردیاں بھی کم ہوتی جا رہی ہیں۔ قبیلے کے کئی اہم عمایدین خانہ جنگی کے خاتمے اور قومی مفاہمت کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں علوی قبیلے کی نمائندہ سوسائٹی نے قبیلے کے وابستگان سے کہا ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی فوج میں بھرتی ہونے سے گریز کریں اور خود کو موجودہ خانہ جنگی میں غیر جانب دار ثابت کریں۔ خانہ جنگی میں قتل ہونے والے افراد کے بارے میں خاموش رہنے والے رہ نمائوں کو بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ علوی قبیلے کے افراد کے قتل پرخاموش رہنے والے قبیلے کی تذلیل اور توہین قبول کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ نیز وہ بشارالاسد اور ان کی آل اولاد کی کرسی بچانے کے لیے اپنے بیٹوں کو قربان کرتے چلے جا رہے ہیں۔

شام کے اخبار’’کلھا سوریون‘‘ کے چیف ایڈیٹر بوسام یوسف نے’’العربیہ‘‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علوی قبیلہ اور صدر بشار الاسد کے تمام وفادار گروہ مفاد پرستوں پر مشتمل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کا مقصد صرف اپنی کرسی بچانا ہے چاہے اس کے لیے انہیں اپنے پورے قبیلے کی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔ اب تک صدر کے سب سے زیادہ وفادار قبیلے کے 60 ہزار افراد خانہ جنگی کی نذر ہو چکے ہیں۔