.

جیش الحر چینی طیارہ شکن میزائل حاصل کرنے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم اعتدال پسند اپوزیشن کی نمائندہ فوج ’’جیش الحر‘‘ کو دوست ممالک کی جانب سے تو اسلحہ نہیں مل سکا تاہم انہوں نے افریقی اسلحہ اسمگلروں سے چینی ساختہ طیارہ شکن میزائل حاصل کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق جیش الحر کو ایک افریقی اسلحہ اسمگلر گروپ سے طیارہ شکن میزائل ایک ایسے وقت میں ملے ہیں جب چند ہی روز قبل امریکا نے شام کے کُرد اکثریتی علاقے کوبانی میں کرد جنگجوئوں کے لیے لایا گیا اسلحہ غلطی سے داعشی جنگجوئوں پر ڈراپ کیا تھا۔

"ڈیلی میل" نے جیش الحر کے کارکنوں کو غیر ملکی اسلحہ بالخصوص چینی ساختہ طیارہ شکن راکٹوں کی نمائش کرتے دکھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق’’جیش الحر‘‘ کو حال ہی میں ایک عرب ملک کے توسط سے چینی ساختہ ’’FN.6‘‘ نامی طیارہ شکن راکٹ اور ایئر کرافٹ گنیں حاصل ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شام میں جیش الحرتک یہ اسلحہ کئی مراحل کے بعد پہنچا ہے۔ سب سے پہلے اسے سوڈان نے چین سے خرید کیا۔ سوڈان پہنچنے کے بعد اسے اسملگروں کی مدد سےترکی اور وہاں سے شام میں جیش الحر تک پہنچایا گیا ہے۔

تاہم برطانوی اخبار مزید لکھتا ہے کہ شام میں جیش الحر تک پہنچنے والے اسلحے کے اصل ذریعے کا پتا نہیں چل سکا ہے کیونکہ چین کے اس نوعیت کے طیارہ شکن میزائل اور دیگر ہتھیار کئی دوسرے عرب ملکوں اور براعظم ایشیا کے کم وبیش تمام ممالک کے پاس ہیں۔

جہاں تک سوڈان کی جانب سے مہلک ہتھیاروں کی شامی اپوزیشن تک منتقلی کا معاملہ ہے تواس میں ایک اور شبہ بھی حائل ہے۔ وہ یہ کہ خرطوم حکومت کے ایران کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ اس لیے سوڈان حکومت ایک ایسے ملک کے خلاف اسلحہ کیسے دے سکتا ہے جو ایران کا اہم ترین حلیف سمجھا جاتا ہے۔

گذشتہ برس امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سوڈان نے چین سے طیارہ شکن میزائلوں کی بھاری کھیپ خرید کی ہے جسے شام میں جیش الحر کو فروخت کیا جائے گا۔

برطانوی اخبار کے مطابق سوڈان نے طیارہ شکن میزائل چین کی ایک اسلحہ ساز فرم سے باضابطہ اور براہ راست خرید کیے ہیں۔ ممکن ہے بعد ازاں یہ اسلحہ ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والے گروپوں نے خرید کیا ہو انہوں نے ہی اسے شام میں جیش الحر تک پہنچا دیا ہو۔

شامی اپوزیشن پچھلے تین سال سے اپنے حلیف ملکوں سے اسلحہ کی فراہمی کا مطالبہ کرتی رہی ہے تاہم ہر ملک شام میں اسلحہ کی فراہمی میں متذبذب ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ باہر سے ملنے والا اسلحہ شام میں کس کے ہاتھ لگتا ہے۔

اس کی ایک تازہ مثال حال ہی میں شام کے علاقے کوبانی میں دیکھی گئی جہاں امریکی طیاروں نے اسلحہ تو کردوں کے لیے گرایا مگر وہ امریکیوں کے جانی دشمن داعشی جنگجوئوں کے ہاتھ لگ گیا۔ امریکی وزارت دفاع نے اپنی اس غلطی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ نشانہ خطا ہونے سے اسلحہ کردوں کے بجائے داعشی جنگجوئوں کے پاس ڈراپ کر دیا گیا تھا۔