.

میرے تمام اعضاء عطیہ کر دیئے جائیں: ریحانہ جباری

ایران میں پھانسی پانے والے دوشیزہ کا والدہ کے نام جذباتی خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 25 اکتوبر کو پھانسی کی سزا پانے والی ریحانہ جباری نے پھانسی سے پہلے اپنی ماں کو ایک خط لکھ کر اپنی موت کے بعد اپنے اعضاء کو عطیہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا یہ خط اپریل میں ہی موصول ہو گیا تھا لیکن ایران میں امن کے حامی کارکنوں نے اس کو ریحانہ کو پھانسی دیے جانے کے ایک دن بعد عام کیا۔ ریحانہ کی والدہ نے جج کے سامنے اپنی بیٹی ریحانہ کی جگہ خود کو پھانسی دیے جانے کی التجاء کی تھی۔

دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی کوششوں کے باوجود قتل کے الزام میں تقریباً 7 سال سے قید ریحانہ جباری کو گذشتہ دنوں پھانسی دے دی گئی۔ واضح رہے کہ 2007ء میں ریحانہ نے سابق انٹیلی جنس اہلکار مرتضیٰ عبدل علی سربندی کو چھری کے وار سے قتل کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ایک مبصر کا کہنا تھا کہ ریحانہ نے مرتضٰی کا قتل اپنے دفاع میں کیا تھا کیونکہ سربندی نے ریحانہ کا ریپ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایرانی قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو سزائے موت دینے سے پہلے اُس کے کسی قریبی رشتہ دار سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ایران میں امن کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ریحانہ کی والدہ کو بتایا گیا تھا کہ ریحانہ کو پھانسی دیے جانے کے کچھ گھنٹوں پہلے انہیں اس بارے میں بتا دیا جائے گا۔

ریحانہ کے خط کا متن

"میری پیاری امی جان،

مجھے آج پتہ چلا کہ مجھے قصاص (ایرانی نظام میں سزا کا قانون) کا سامنا کرنا پڑے گا، مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہو رہا ہے کہ آخر آپ اپنے دل کو یہ یقین کیوں نہیں دلا رہی ہیں کہ میں اب اپنی زندگی کے آخری مقام تک پہنچ چکی ہوں۔

آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی اداسی مجھے کس قدر پریشان کرتی ہے؟ آپ مجھے اپنے اور پاپا کے ہاتھوں کو چومنے کا موقع کیوں نہیں دیتی ہیں۔

ماں، اس دنیا نے مجھے 19 سال جینے کا موقع دیا تھا۔ اس منحوس رات کو میرا قتل ہو جانا چاہیے تھا۔ میری لاش کو شہر کے کسی کونے میں پھینک دیا گیا ہوتا اور پھر پولیس آپ کو میری لاش کو پہچاننے کے لیے بلواتی اور آپ کو پتہ چلتا کہ قتل سے پہلے میرا ریپ بھی ہوا تھا۔

میرا قاتل کبھی بھی گرفت میں نہیں آتا، کیونکہ آپ پاس اس کی طرح نہ ہی دولت ہے، نہ ہی طاقت۔ اس کے بعد آپ کچھ سال اسی عذاب اور پریشانی میں گزارتیں اور پھر اسی عذاب میں آپ بھی انتقال کر جاتیں۔

لیکن، کسی لعنت کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ میری لاش تب پھینکی نہیں گئی۔ لیکن، یہاں جیل کی قبر میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اسے ہی میری قسمت سمجھیے اور اس کا الزام کسی کے سر نہ ڈالیے۔ آپ بہت اچھی طرح جانتی ہیں کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتی۔ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ انسان کو مرتے دم تک اپنے اقدار کی حفاظت کرنی چاہیے۔

ماں، جب مجھے ایک قاتل کے طور پر عدالت میں پیش کیا گیا، تب بھی میں نے ایک آنسو نہیں بہایا۔ میں نے اپنی زندگی کی بھیک نہیں مانگی۔ میں چلّانا چاہتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا کیونکہ مجھے قانون پر پورا بھروسہ تھا۔

ماں، آپ جانتی ہیں کہ میں نے کبھی ایک مچھر بھی نہیں مارا۔ میں كاكروچ کو مارنے کی بجائے اس کو مونچھ سے پکڑ کر اسے گھر سے باہر پھینک آیا کرتی تھی، لیکن اب مجھے ایک ارادے کے تحت قتل کرنے کا مجرم بتایا جا رہا ہے۔ وہ لوگ کتنے پُر امید ہیں جنہوں نے ججوں سے انصاف کی امید کی تھی۔ آپ جو سن رہی ہیں، مہربانی کرکے اس پر مت روئیے۔

میں اپنی موت سے پہلے آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ ماں، میں مٹی کے اندر سڑنا نہیں چاہتی۔ میں اپنی آنکھوں اور جوان دل کو مٹی میں بدلنا نہیں چاہتی، اس لیے استدعا کرتی ہوں کہ پھانسی کے بعد جلد سے جلد میرا دل، میرے گردے، میری آنکھیں، ہڈیاں اور وہ سب کچھ جس کا ٹرانسپلاٹ ہو سکتا ہے، اسے میرے جسم سے نکال لیا جائے اور انہیں ضرورت مند شخص کو عطیے کے طور پر دے دیا جائے۔ میں نہیں چاہتی کہ جسے میرے اعضاء دیے جائیں اسے میرا نام بتایا جائے۔‘‘