.

فیس بک پر"استغفر الله العظيم" کی عبارت بلاک؟

’’استغفار‘‘لکھتے ہوئے سائٹ کی سیکیورٹی میں خلل پڑتا ہے: انتظامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی رابطے کی مقبول عام ویب سائٹ’’فیس بک‘‘ کی خاتون ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ، افریقا اور وسطی و مشرقی یورپ جمانہ عنتر نے وضاحت کی ہے کہ ویب سائٹ پر "استغفر الله العظيم" کی عبارت کی بار بار بندش کی بنیادی وجہ کوئی سیاسی یا مذہبی محرک نہیں بلکہ تکنیکی وجوہات کی بناء پر یہ عبارت ’ایڈجسٹ‘ نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم جلد ہی اس تکنیکی مسئلے کا حل نکال لیا جائے گا۔

اردن سے شائع ہونے والے اخبار ’’الغد‘‘ سے بات کرتے ہوئے آنسہ عتنر کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر "استغفر الله العظيم" کی عبارت نشر کرنے کا عمل روک دیا گیا ہے۔ جلد ہی مسئلے کا حل نکال لیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں جمانہ عنتر کا کہنا تھا ’’فیس بک‘‘پر ایک ہی عبارت کا تکرار کے ساتھ نشر کیا جانا عبارت کی بندش کا باعث بن جاتا ہے۔ بند ہو جانے والی ہر عبارت، قول یا بات کو کھولا جانا ضروری نہیں ہوتا تاہم "استغفر الله العظيم" جیسی عبارت کی فیس بک پر بحالی ہر صورت میں ہو گی۔

عنتر کا کہنا تھا کہ اس وقت 1300 ملین افراد فیس بک کا استعمال کرتے ہیں۔ صارفین کی جانب سے بعض اصطلاحات کو ویب سائٹ میں زبردسی دخیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ سسٹم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اُنہیں قبول نہیں کر رہا ہوتا ہے جس کے باعث وہ اصطلاح یا عبارت بلاک ہو جاتی ہے۔ صارفین کی سیکیورٹی کے لیے سسٹم کا ایسا کرنا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اردن میں فیس بک صارفین کی بڑی تعداد کی جانب سے یہ شکایت سامنے آئی تھی کہ فیس بک پر "استغفر الله العظيم" کی عبارت نشر نہیں ہو رہی ہے۔ عبارت کی بندش پر مختلف نوعیت کے تبصرے اور خیالات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

بیشتر فیس بک صارفین نے اسلامی عبارت کے نشر نہ ہونے پر ویب سائٹ انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی تعصب اور اسلام دنشمنی کی بناء پر "استغفر الله العظيم" کی عبارت کو دانستہ طور پر نشر کرنے سے روکا گیا ہے۔ فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’’استغفار‘‘ کا لفظ لکھتے ہوئے ویب سائٹ کی سیکیورٹی میں خلل پڑتا ہے۔ اس کا مذہب یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔