.

مفت بر البیش المرکہ داعش کا مقابلہ کریں گے؟

ترک ریستوراں میں کھانے کا بل ادا کیے بغیر چل دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خود مختار علاقے کردستان سے تعلق رکھنے والے البیش المرکہ کے ڈیڑھ سو سے زیادہ جنگجو منگل کو شام کے سرحدی شہر کوبانی میں داعش کے جنگجوؤں سے لڑائی کے لیے روانہ ہوئے تھے لیکن اپنی منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی مفت بر مہمان ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور ابھی انھوں نے میدان جنگ میں داد شجاعت دینا ہے۔

ان میں سے 80 جنگجو ترکی کے سرحدی شہر سانلی عرفہ کے نزدیک واقع ڈیمرل موٹروے سروسز ریستوراں میں بدھ کو ٹھہرے تھے۔انھوں نے وہاں خوب سیر ہوکر کھانا کھایا لیکن اس کا 473 ڈالرز کا بل ادا کیے بغیر ہی چل دیے تھے۔

ترکی کے موقر روزنامے حریت نے جمعہ کو ایک رپورٹ شائع کی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ البیش المرکہ کے جنگجوؤں نے ریستوراں میں انواع واقسام کے خوب مزے اڑائے ،انھوں نے خصوصی طور پر تیار کردہ عرفہ کباب کھایا،سوپ پیا ،لوبیا اور چاول کھائے اور اس طرح اس باجماعت کھانے کا کل بل 1040 ترکی لیرا بنا تھا۔

ریستوران کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ''البیش المرکہ نے اس میں سے کوئی رقم ادا نہیں کی لیکن ہم نے اس بل کو اپنے پاس محفوظ رکھا ہوا ہے اور اب اس کی ادائی کے منتظر ہیں''۔

اخبار نے ریستوراں کے ایک شراکت دار بکیر ڈیمرل کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس بل سے متعلق غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی اور اس کو بعد میں سانلی عرفہ کے صوبائی گورنر کے دفتر نے ادا کردیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ ہم نے آج (جمعرات کو) اپنے اکاؤنٹس کو ملاحظہ کیا تھا اور اس میں رقوم پہنچ چکی تھی لیکن دوسری جانب گورنر کے دفتر نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے تو کوئی رقم ادا ہی نہیں کی اور نہ وہ کھانے کا بل موصول ہونے سے آگاہ ہے۔

البیش المرکہ کے جنگجو منگل کو کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل سے شام کے سرحدی شہر کوبانی کے لیے روانہ ہوئے تھے اور انھوں نے ترکی کے سرحدی علاقے سے شامی شہر میں داخل ہونا تھا لیکن ابھی ان کے وہاں پہنچنے اور داعش کے مدمقابل میدان جنگ میں اترنے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔