صدر ایردوآن کے سامنے تمباکو نوشی پر جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن تمباکونوشی کے سخت مخالف ہی نہیں بلکہ تمباکو نوشوں کے بھی سخت خلاف ہیں۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ایک کیفے میں اپنے سامنے سگریٹ پینے والے ایک شخص کو پولیس سے جرمانہ کرا دیا ہے اور اس کو تنبیہ بھی کی ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ رجب طیب ایردوآن اتوار کو استنبول میں ایک تقریر کے بعد شہر کے گشت پر نکلے کھڑے ہوئے۔انھوں نے ورکنگ کلاس کے علاقے میں ایک مصروف شاہراہ پر واقع کیفے کی دوسری منزل کی بالکونی پر ایک شخص کو تمباکو نوشی کرتے ہوئے دیکھ لیا اور وہ پھر اس کو قانونی سزا دلوا کر ہی وہاں سے ہٹے۔

آن لائن پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج کے مطابق وہ اپنے مصاحبین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جارہے تھے۔اچانک وہ اس تمباکونوش کو دیکھ کر رُک گئے اور اس کی جانب انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے بولے کہ وہ تمباکو کے استعمال پر پابندی کے قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔

اس فوٹیج میں سگریٹ کے کش لگانے والا یہ شخص تو نظر نہیں آرہا ہے لیکن صدر رجب طیب ایردوآن اس کو یہ کہتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ اس کو قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ہوسکتا ہے۔

پھر وہ اپنے ساتھ موجود استنبول کے علاقے ایسنلر کے مئیر کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا کہ پولیس کہاں ہے؟مئیر نے پہلے تو مسکرا کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں جلد ہی احساس ہوگیا کہ صدر صاحب تو اس معاملے میں بہت سنجیدہ ہیں۔

رجب طیب ایردوآن نے قدرے غصیلے انداز میں کہا کہ ''یہ بے شرم شخص صدر کے کہنے کے باوجود باز نہیں آیا ہے۔اس نے وہاں بیٹھ کر سگریٹ سلگائے جارہا ہے اور یہ محرم کا مہینہ ہے۔خدا کے لیے کچھ تو احساس کرو''۔

اس کے بعد استنبول کے مئیر قدیر توپ باس بھی سامنے آگئے اور انھوں نے بھی معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ شخص آیندہ سگریٹ نہ سلگانے کا وعدہ کرسکتا ہے مگر صدر ایردوآن کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور انھوں نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ اس شخص کو موقع پر ہی جرمانہ عاید کرے۔ترک میڈیا کے مطابق پولیس نے اس شخص پر عوامی مقام پر سگریٹ نوشی کے جرم میں 90 ترک لیرا جرمانہ عاید کیا ہے۔اس کے بعد صدر وہاں سے چلے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ترکی میں 2009ء میں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کی حکومت نے تمام سرکاری عمارتوں، کیفے، بار، ریستوراںوں اور چار دیواری والی بیرونی جگہوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی کا قانون متعارف کرایا تھا۔ خود صدر طیب ایردوآن تمباکو کے سخت مخالف ہیں اور انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ تمباکو نوشی کے دہشت گردی سے بھی زیادہ سنگین خطرات ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے جولائی میں اسی انداز میں ترکی کی قومی یوتھ فٹ بال ٹیم کے ایک کھلاڑی کومحض اس بنا پر ڈانٹ دیا تھا کہ اس نے اپنے بازو پر ٹیٹو بنا رکھا تھا۔انھوں نے اس کھلاڑی کو خبردار کیا تھا کہ اس کے صحت پر خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں