ایرانی جنرل قاسم سلیمانی داعش مخالف جنگ کے''ماسٹر مائنڈ''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے گذشتہ ہفتے جرف السخر سے پسپائی اختیار کرلی تھی۔ اس پر عراقی فوج نے فتح کے ڈونگرے برسائے اور ٹینکوں اور حمویوں پر سوار ہوکر قصبے میں پریڈ کی اور فوجیوں نے سرکاری عمارتوں کا معائنہ کیا تھا۔

عراقی فوج کی اس فتح کے بعد آزاد نیوز ویب سائٹس کے ذریعے ایسی تصاویر منظرعام پر آئی تھیں جن سے عراق میں برسرزمین ایران کے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی کی اگلے مورچوں پر موجودگی کا انکشاف کیا گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ دراصل عراقی فوج کی داعش کے خلاف حالیہ کامیابیوں کے پیچھے انھی کا ذہن اور فوجی حکمت عملی کارفرما ہے۔

ایرانی جنرل کے علاوہ لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو بھی عراقی فوج کے شانہ بشانہ داعش کے خلاف لٰڑرہے ہیں اور انھوں نے مغربی صوبے الانبار سے دارالحکومت بغداد کی جانب آنے والے راستوں کو محفوظ بنانے اور اس علاقے میں واقع اہل سنت کے دیہات میں داعش کی پیش قدمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ملیشیا کمانڈروں نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب ایران اور لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے دسیوں مشیر جرف السخر کے محاذ پر ہراول دستے کا کردار ادا کررہے تھے۔انھوں نے قریباً سات ہزار فوجیوں اور ملیشیا جنگجوؤں کو اسلحہ چلانے کی تربیت دی اور اس قصبے میں داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے قبل فوجی کمانڈروں کے ساتھ گہرے روابطہ استوار کیے تھے۔

ابو زینب کی کنیت سے اپنی شناخت کرانے والے ایک کمانڈر نے بتایا کہ جنرل قاسم سلیمانی نے تین ماہ قبل جرف السخر میں داعش کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی شروع کی تھی۔بغداد سے پچاس کلومیٹر جنوب میں واقع اس قصبے پر داعش نے اگست میں قبضہ کیا تھا۔یہ بغداد سے کربلا کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

تاہم عراقی فوج کے اعلیٰ عہدے داروں نے جنرل قاسم سلیمانی کی جرف السخر میں موجودگی یا سابقہ فتوحات میں ان کے کردار کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔دوسری جانب حزب اللہ نے بھی کھلے بندوں عراق میں اپنی سرگرمیوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے اور بیروت میں جب اس کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس موضوع پر کچھ کہنے کی اجازت نہیں ہے۔

پڑوسی ملک شام میں حزب اللہ کے ہزاروں جنگجو صدر بشارالاسد کی حمایت میں ان کی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں اور ان کی موجودگی کی وجہ سے ہی باغی گروپ دارالحکومت دمشق پر قبضہ نہیں کرسکے ہیں بلکہ شامی فوج نے دمشق کے نواح میں واقع بہت سے قصبوں اور دیہات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور باغیوں کو وہاں سے مار بھگایا ہے۔

حزب اللہ سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک لبنانی عہدے دار کا کہنا ہے کہ شیعہ ملیشا کے عراق میں بہت محدود تعداد میں جنگی مشیر موجود ہیں۔عراقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشیر داعش کے خلاف لڑنے والی شیعہ ملیشیاؤں کی رہ نمائی کررہے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا حزب اللہ کے جنگجو داعش کے خلاف میدان جنگ میں بھی لڑرہے ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب عراق کے اہل سنت ایران اور حزب اللہ کی مداخلت پر اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ایک سنی رکن پارلیمان حامد المطلک کا کہنا ہے کہ ''یہ درست ہے عراق کو موجودہ صورت حال میں ہر طرح کی مدد کی ضرورت ہے مگر یہ مدد سرکاری طور پر آنی چاہیے اور بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہونی چاہیے لیکن ایران کی جانب سے غیر علانیہ امداد سے عراق کی خودمختاری اور قومی مصالحت کو نقصان پہنچے گا''۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ عراق میں شیعہ ملیشیاؤں نے داعش کے حملوں کے ردعمل میں حکومت کی حمایت سے بیسیوں سنی شہریوں کو اغوا کر کے قتل کردیا تھا۔

جنرل قاسم سلیمانی کے زیرکمان پاسداران انقلاب کی خصوصی القدس فورس گذشتہ کئی برسوں سے عراق کی شیعہ ملیشیاؤں کو تربیت دے رہی ہے اور ان کی مالی معاونت بھی کررہی ہے۔وہ ایک طویل عرصے سے لبنان میں حزب اللہ کی معاونت کررہی ہے،اس کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے اور شام میں بھی اسدی فورسز کی حمایت میں پیش پیش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں