.

داعش کے ہاتھوں شامی فوجیوں کا بھیانک قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار دولتِ اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کی سفاکیت روزبروز بڑھتی جارہی ہے اور وہ جب بھی اپنی کوئی نئی ویڈیو جاری کرتے ہیں تو وہ ان کی سفاکیت اور بھیانک ظلم کی نئی داستان بیان کررہی ہوتی ہے۔

اس سے پہلے داعش کی یرغمال صحافیوں ،امدادی کارکنوں یا شامی فوجیوں کو ذبح کرنے یا انھیں قطاروں میں کھڑا کرکے گولیاں مارنے اورعورتوں کو سنگسار کرنے کی ویڈیوز منظرعام پر آچکی ہیں۔اب انھوں نے تین شامی فوجیوں کو اجتماعی سزا دینے کی ویڈیو جاری کی ہے اور اس نے ان کی سفاکیت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں داعش کا ایک جنگجو ہجوم کو ان تین شامی فوجیوں کے مبینہ جرائم سے آگاہ کررہا ہے اور پھر انھیں روندنے اور ٹھڈے مارنے کی ترغیب دے رہا ہے۔اس ہجوم میں عام لوگ بھی ہیں اور داعش کے نقاب پوش جنگجو بھی نظر آرہے ہیں۔

داعش کے اس جنگجو کے اعلان کے بعد مجمع تینوں شامی فوجیوں پر پِل پڑتا ہے۔لوگ انھیں ٹھڈے مار مار کر ادھ موا کردیتے ہیں۔جب ان کی جان نکل جاتی ہے تو پھر جنگجو ان کی لاشوں کو تین موٹرسائیکلوں کے پیچھے باندھ کر ایک سڑک پر گھماتے ہیں۔

شامی فوجیوں کے بھیانک قتل کا یہ واقعہ بظاہر مشرقی شہر الرقہ میں رونما ہوا ہے۔یہ شہر داعش کی حکومت کا دارالحکومت ہے۔داعش نے عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ کرکے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔ان پر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے فضائی حملے شروع کررکھے ہیں لیکن اس کے باوجود داعش کی چیرہ دستیوں کا سلسلہ جاری ہے۔