'تم نے مجھے سزائے موت دی، میں تمھیں وزارت دیتا ہوں'

یمنی صدر کو سزائے موت سنانے والا جج انہی کی کابینہ میں وزیر بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسے سابق چیف جسٹس کو اپنی کابینہ میں وزارت انصاف کا قلم دان سونپا ہے جس نے سنہ 1987ء میں ایک جج کی حیثیت سے انہیں دہشت گردی کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل 34 رکنی کابینہ کی حلف برداری تقریب ہوئی اور صدر ھادی نے ان سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیر انصاف مقرر ہونے والے ڈاکٹر خالد عمر باجنید بھی شامل تھے جنہوں نے سنہ 1987 میں جنوبی یمن میں ہونے والی خانہ جنگی میں حصہ لینے کی پاداش میں صدر عبد ربہ کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس خانہ جنگی میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقت عبد ربہ منصور ھادی جنوبی یمن کی مسلح افواج کے سربراہ تھے اور انہوں ‌نے سوویت یونین سے حاصل کردہ اسلحہ اس وقت کی سوشلسٹ حکمراں جماعت کو بھی فراہم کیا تھا جو خانہ جنگی میں براہ راست ملوث بتائی جاتی تھی۔

یمنی حکومت کے ذرائع نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ صدر عبد ربہ منصور ھادی نے سیاسی بلوغت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر اپنی کابینہ میں ایک ایسے شخص کو بھی وزارت انصاف جیسا اہم عہدہ سونپا ہے جو ماضی میں انہیں پھانسی کی سزا سنا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ھادی ملک میں سیاسی گھٹن کو کم کرنا چاہتے ہیں اور انہوں ‌نے خود کو سزائے موت سنانے والے جج سے بھی کسی قسم کا تعرض نہیں کیا بلکہ انہیں اپنی کابینہ میں اہم وزارت سونپ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے ساتھ قومی مفاہمت کے خواہاں ہیں۔

خیال رہے کہ عوامی جمہوریہ یمن جسے موجودہ وفاق سے قبل جنوبی یمن بھی کہا جاتا تھا، جنوری سنہ 1986ء میں بدترین خانہ جنگی سے گذرا۔ تاہم ایک سال کے بعد جنوبی اور شمالی یمن کے درمیان ایک وفاق کے قیام پر اتفاق ہو گیا۔ خانہ جنگی میں جنوبی یمن کا عدن شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا اور ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شمالی یمن کی طرف نقل مکانی کی۔

اس عرصے میں عبد ربہ منصور ھادی جنوبی یمن میں مسلح افواج کے سربراہ تھے۔ ان پر یہ الزام عاید کیا گیا کہ وہ خانہ جنگی میں حکمراں جماعت کی حمایت کرتے اور جنگجوئوں کو اسلحہ مہیا کر کے ملک دشمنی اور غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اسی الزام کے تحت ان پر مقدمہ چلایا گیا اور عدالت کے جج جسٹس خالد عمر باجنید نے دسمبر 1987ء میں انہیں دہشت گردی اور غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ تاہم سزا پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور جنوبی اور شمالی یمن کے بعد سابقہ سزائیں کالعدم قرار دی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں