.

اومان میں سفارتی اور بھارت میں احتجاجی بوسوں کا کلچر

یوسف بن علوی کی تصویر زبان حال ہے، نریندر مودی ابھی خاموش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعہ طے کرانے اور حتمی معاہدے میں کامیاب نہ ہو سکنے والے اومان کے وزیر خارجہ نے یورپی وزیر خارجہ کیتھرائن آشٹن سے بوسوں کے تبادلے سے خلیجی سفارت کاری کو ایک نیا رخ دینے میں کامیاب ہو گئے۔

لیکن اسی روز بھارت کے ہوس گیر نوجوانوں کو محبت کے بوسوں کی مہم کے دوران سخت گیر بھارتیوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب یہ بوسوں کے اسیر اور بھارتی ہوس گیر نوجوان اگلے ماہ پھر ایسی ہی ایک مہم کے ساتھ سامنے آ کر بھارتی انتہا پسندوں کے نمائندہ مودی کے دیش کو مغربی دنیا کا نمائندہ بنانے کی کو شش کریں گے۔

تاہم اومان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی کو ایرانی جوہری تنازعے کی 24 نومبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے ایسے بوسے کے لیے میزبانی کا دوبارہ موقع نہ مل سکے گا۔

بھارت جسے ووٹرز کی تعداد کے حوالے سے دنیا کی بڑی جمہوریہ سمجھا جاتا ہے میں ہوس گیر نوجوان بوس و کنار کے سر عام مشغلے کو بھی جمہوریت سے جوڑ کر اسے اپنا جمہوری حق بتلا رہے ہیں۔

جبکہ مودی کے نظریاتی ساتھی اس بوسہ مہم میں ہندووانہ تصب کو اس طرح لے آئے ہیں کہ یہ صرف اظہار محبت کے حق میں مہم نہیں بلکہ اس سے بین المذاہب شادیوں کی راہ ہموار کرنے کی سازش قرار دیتے ہیں۔

گویا یہ ہوس گیر بھارتی نوجوان اگر انتہا پسند ہندو جماعتوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے یہ اس مہم کے راستے بوسے ہندو مت اور ہندو بالادستی میں کام آ سکتے ہیں تو بہت ممکن ہے کہ مودی کے ساتھی نہ صرف مودی کی اب تک کی اس بارے میں اختیار کردہ چشم پوشی کی طرح ہی اغماض برتیں بلکہ بہت ممکن ہے خود بھی سر عام بوس و کنار کے شغلِ ہوس گیری کے اسیر ہو جائیں۔

اومان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کے ساتھ بے تکلفانہ بوسہ بازی کا اظہار اومان کی میزبانی میں ایرانی اور چھ عالمی طاقتوں کے شروع ہونے والے مذاکرات سے پہلے اپنی خاص مہمان کیتھرائین آشٹن کے لیے والہانہ پن کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ اس سے پہلے خلیجی ممالک کے ذمہ داروں کی طرف سے ایسے کھلے والہانہ پن کی مثال نہیں ہے۔

لیکن اومان جو ایران کے لیے ماضی میں بھی امریکا اور مغربی دنیا میں متحرک رہ چکا ہے۔ اب کی بار اس کے وزر خارجہ نے ایران کے حق میں اہل مغرب کے دروازے پر ہونٹوں سے دستک دینے کی کوشش کی ہے۔ اس والہانہ اپنے پن پر خود ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی یقینا مچل کر رہ گئے صاف نظر آ رہے ہیں اور جان کیری بھی اپنی ہم سن آشٹن کیطرف بس دیکھے جا رہے ہیں۔

اومانی وزیر خاجہ کے کیتھرائن آشٹن کے لیے والہانہ پن کو سوشل میڈیا میں ملے جلے انداز میں دیکھا گیا ہے۔ ٹویٹر کے بعض صارفین نے سفارت ومیزبانی کے اس پر جوش بوسے کو دیکھ کر تعریف کی اور بعض نے اسے ایک بے ہودہ حرکت پر محمول کیا۔

کئی لوگوں کے مطابق اومان کے وزیر خارجہ کا یہ انداز غیر مناسب رویے پر مبنی ہے۔ ٹویٹر استعمال کرنے والے کئی افراد نے کہا ''یہ شخص ایک دیرینہ تنازعہ طے کرانے کی مصالحت کی کوشش کر رہا ہے اور احمق لوگ اس استقبالی ماحول پر اٹک کر رہ گئے ہیں، حالانکہ اس پر اسے مجبور کر دیا گیا تھا۔''

واضح رہے اومان کے وزیر خارجہ نے علاقے کے ایشوز کے بارے میں منفرد رائے اختیار کر کے حالیہ عرصے میں غیر معمولی شہرت پائی ہے۔ دوسری جانب بھارت میں احتجاج کی آڑ میں بوسہ بازی کا سر عام بندوبست کرنے والوں کے خلاف اب تک ابھرنے والی آوازوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مادر جماعت اور اس کے وابستگان ہیں۔ ان کے خیال میں یہ بھارتی کلچر کے منافی ہے۔ ایک صاحب نے کہا محبت کا معاملہ ایک ذاتی فعل ہے اسے سر بازار نہیں لایا جائے۔

احتجاجی بوسوں کا رواج پچھلے سال ترکی میں بھی سامنے آیا تھا۔ لیکن بدلے ہوئے ترکی میں اسے زیادہ پزیرائی نہ مل سکی تھی۔ تاہم بالی ووڈ سے دنیا میں غیر معمولی شہرت پانے اور روپیہ کمانے والے بھارت میں یہ شروعات کیرالہ سے ہو رہی ہیں۔ بھارت اب گاندھی کے ماننے والوں کے ہاتھ میں نہیں بال ٹھاکرے، ایڈوانی کے نظریات کے حامل مودی کے ہاتھ میں ہے۔

فیصلہ اگلے ماہ ہو گا کہ بھارت میں مودی حکومت ان سر عام بوسہ بازوں کو ہاتھوں ہاتھ لیتی ہے یا آڑے ہاتھوں، تاہم کا اس کا زیادہ انحصار ہندو جماعتوں کے کارکنوں کی نظریاتی حمیت پر ہے۔