.

شتم صحابہ کرام ’گناہ کبیرہ‘ ہے: ھاشمی رفسنجانی

"فرقہ وارانہ جنونیت نے طالبان اور داعش جیسے گروپ پیدا کیے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی گارڈین کونسل کے سربراہ اور سابق صدر آیت اللہ علی ھاشمی رفسنجانی نے صحابہ کرام اور بزرگ ہستیوں کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ صحابہ کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ جنونیت نے عالم اسلام کی طاقت کا شیرازہ بکھیرنے کے ساتھ طالبان اور داعش جیسے گروپ پیدا کیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی شیعہ لیڈر کی ذاتی ویب سائٹ پر پوسٹ ایک بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار کھلاڑیوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ھاشمی رفسنجانی نے کہا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرقہ پرستی سے بچنے کی واضح الفاظ میں تلقین کی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ ’’جھگڑے میں نہ پڑو، ورنہ ناکام ہو جائو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘۔ اللہ کے اس واضح حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم شیعہ اور سنی کے جھگڑوں میں منقسم ہیں۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ جلیل القدر صحابی رسول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ سرگرمیوں سے مسلمانوں میں اشتعال پھیلتا ہے جس کے نتیجے میں القاعدہ، طالبان اور داعش جیسے عناصر جنم لیتے ہیں۔

شورائے نگہبان کے سربراہ نے کہا کہ صحابہ کرام اور بزرگ ہستیوں کو گالی دینا اور ان پر لعن طعن کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب 70 کروڑ تک جا پہچنی ہے۔ ہم کرہ ارض پر 60 آزاد اور خود مختار ممالک کے مالک ہیں۔ اس کے باوجود ہماری کوئی طاقت نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے درمیان فرقہ پرستی کا ناسور ہے۔ مسلمانوں کو اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کے لیے ایک دوسرے کی بزرگ ہستیوں کا احترام کرنا ہو گا۔

ماہرین کونسل کی قیادت

خیال رہے کہ علی اکبر ھاشمی رفسنجانی کو ایران میں اعتدال پسند سیاسی اور مذہبی رہ نمائوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رفسنجانی سپریم لیڈر کو منتخب کرنے والے ملک کے سب سے بڑے ادارے’’ماہرین کونسل‘‘ کے نئے سربراہ کے لیے بھی امیدوار ہیں۔ ماہرین کونسل کے سابق سربراہ محمد رضا مہدوی کنی طویل علالت کے بعد 21 اکتوبر کر انتقال کر گئے تھے جس کے بعد ادارے کے نئے سربراہ کے تقرر کے بارے میں غور شروع کر دیا گیا ہے۔

محمد رضا مہدی کنی کی جانشینی کے لیے کئی سرکرہ لیڈروں میں مقابلہ ہے تاہم ھاشمی رفسنجانی بھی اس کے ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ انہیں اعتدال پسند حلقوں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے جبکہ شدت پسندوں کی جانب سے سابق چیف جسٹس آیت اللہ ھاشمی شاہرودی کو آگے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے علاوہ آیت اللہ یزدی، آیت اللہ جنتی اور جامع تہران کے امام و خطیب آیت اللہ موحدی کرمانی کے نام بھی زیر غور ہیں۔

مختصر سوانح عمری

اعتدال پسند رہ نما 80 سالہ ھاشمی رفسنجانی سنہ 1989ء اور سنہ 1997ء میں دو مرتبہ ملک کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 1997ء کے بعد سے وہ شورائے نگہبان کے مسلسل سربراہ کے عہدے پر فائز ہیں۔ ھاشمی رفسنجانی اوائل عمری میں سیاسی میدان میں نکل آئے تھے۔ سنہ 1979ء کے انقلاب ایران سے قبل وہ کئی بار شاہ ایران کے خلاف بغاوت کے الزام میں جیل میں ڈالے گئے۔ انہیں بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کا شاگرد خاص ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔

سنہ 1988ء کی عراق، ایران جنگ کے دوران آیت اللہ خمینی نے انہیں مسلح افواج کا ڈپٹی کمانڈر ان چیف بھی مقرر کیا تھا۔ انہی کے دور میں سلامتی کونسل نے ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ کے خاتمے کی قرارداد منظور کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو جنگ بندی پر متفق کیا تھا۔