.

ہاتھ سے بنی مہنگی ترین گھڑی 24 ملین ڈالر میں نیلام

گھڑی کی نیلامی اس کے قطری مالک کی وفات کے بعد کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہاتھ سے بنائی گئی دنیا کی ایک پیچیدہ ترین گھڑی اپنے قطری مالک کی وفات کے بعد چوبیس ملین ڈالر کی رقم سے نیلامی کے بعد ایک نئے اور گمنام مالک کی ملکیت بن گئی ہے۔

دُنیا کی اس انوکھی گھڑی کو 1999ء میں قطر کے سابق وزیر ثقافت الشیخ سعود بن محمد آل ثانی نے 11 ملین ڈالر کی بولی میں خریدا تھا۔ الشیخ آل ثانی چند روز پیشتر لندن میں اچانک 48 سال کی عمر میں دار فانی سے رخصت ہو گئے لیکن وہ قطر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں فنی نوادرات جمع کرنے کے حوالے سے ایک نیا ریکارڈ مرتب کر گئے ہیں۔

ان کی شہرت قطر کے ایک سابق وزیر سے زیادہ فنی نوادرات کا مشغلہ رکھنے والے ایک تاجر کی حیثیت سے رہے گی کیونکہ دنیا یہ جانتی ہے کہ مرحوم نے اپنی زندگی میں ایک ارب ڈالر مالیت کی ایسے ہی نایاب قدیمی آلات خرید رکھے تھے جو ان کے ذاتی عجائب گھر کی زنیت تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق قطری وزیر ثقافت نے سنہ1997ٕء سے 2005ء کے عرصے کے درمیان دوحہ میں اپنی رہائش گاہ کے اندر ہی ایک بڑا عجائب گھر بنایا لیا تھا جس میں دنیا بھر سے قیمتی نوادرات جمع کی گئی تھیں۔

سنہ 1999ء میں انہوں نے "پیٹک فلپ" کمپنی کی تیار کردہ ایک نایاب اور دنیا کی پیچیدہ ترین گھڑی 11 ملین ڈالر مالیت میں ایک کھلی نیلامی میں خرید کی۔ گذشتہ منگل کو اس گھڑی کی جنیوا میں ایک بار پھر نیلامی ہوئی اور ایک گم نام شخصیت نے اسے چوبیس ملین ڈالرکی قیمت سے خرید لیا۔

پیچیدہ گھڑی کی خصوصیات

خیال رہے کہ دنیا کی مہنگی ترین گھڑی سنہ 1925ء میں گریوز سپر کامپلیکیشن‘ کے نام سے سات سال کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں تیار کی گئی۔ سوئس کمپنی پیٹک فلپ نے سنہ 1932 میں اسے امریکا کے ایک دولت مند ہینری گریوز کو فروخت کیا۔ گھڑی کی تیاری میں 24 قیراط سونا استعمال کیا گیا ہے اور اس کا وزن پانچ سو گرام ہے۔

یہ گھڑی اس دور میں تیار کی گئی تھی جب ابھی دُنیا میں کمپیوٹر کا نام ونشان تک نہیں تھا لیکن ماہرین نے اس کی تیاری میں ایسی کمال مہارت کا مظاہرہ کیا ہے جس سے اب بھی یہ گھڑی جدید میشنری کی مدد سے تیار کردہ معلوم ہوتی ہے حالانکہ اس میں تمام کام انسانی ہاتھ سے کیا گیا۔

گھڑی کو 'سپر کامپلیکیشن' یعنی انتہائی پیچیدہ کے نام سے موسم کیے جانے کی وجہ اس کی پیچیدگیاں تھیں۔ اِس میں وقت کے علاوہ کیلنڈر، چاند کے ادوار اور ہینری گریوز کے نیو یارک میں واقع اپارٹمنٹ سے رات کے آسمانی مناظر جیسی 24 خصوصیات موجود ہیں اور تمام خصوصیات کو گھڑی میں نصب نو سو 20 پرزے سر انجام دیتے ہیں۔

گھڑی میں 430 اسکرو، 110 سوئیاں اور 70 قیمتی پتھر استعمال کیے گئے جنہوں نے اس کی قیمت آسمان پر پہنچا دی تھی۔ یہ گھڑی ہینری گریوز کے خاندان کے بعد ایک عجائب گھر سے ہوتی ہوئی قطر کے شیخ سعود بِن الثانی تک پہنچی۔جنیوا میں حالیہ نیلامی میں یہ دنیا کی پیچیدہ ترین گھڑی ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگی ترین گھڑی بھی بن گئی۔