داعش پرانسانیت مخالف جرائم کے الزامات

داعش کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے کہا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) نے اپنے کنٹرول والے علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے جمعہ کو شام میں داعش کی چیرہ دستیوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں داعش کے عمل داری والے علاقوں میں زندگی کی بڑی ہولناک تصویر پیش کی ہے۔ یہ رپورٹ ان علاقوں سے زندگیاں بچا کر بھاگنے والے تین سو افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔

اقوام متحدہ کے پینل نے کہا ہے کہ داعش کے تحت لوگوں پر دہشت کے ذریعے حکمرانی کی جارہی ہے،ان کا قتل عام کیا جارہا ہے،سرقلم کیے جارہے ہیں،عورتوں کو باندیاں بنایا جارہا ہے اور انھیں جبری حاملہ بنایا جارہا ہے تاکہ وہ جہادی بچے جنیں۔

رپورٹ کے مطابق داعش کے کمانڈر ان جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے ارتکاب کے ذاتی طور پر ذمے دار ہیں۔پینل نے جرائم میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش نے شام اور عراق میں لاکھوں افراد تک خوراک اور ادویہ نہیں پہنچنے دی ہیں۔داعش اپنے کنٹرول والے علاقوں میں دہشت کے ذریعے شہریوں کو اپنی رعایا بنائے رکھنے پر مجبور کررہی ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں اپنا غلبہ چاہتی ہے۔

داعش کے جنگجو ایک طرف تو قتل عام کررہے ہیں،دوسری جانب وہ بڑی عمر کے افراد کے علاوہ پندرہ سال کی عمر تک لڑکوں کے بھی سرقلم کررہے ہیں،لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ رہے ہیں،شہروں ،قصبوں کے چوکوں اور چوراہوں میں مبینہ ملزموں کو کوڑے مارے جا رہے ہیں اور بچوں سمیت شہریوں کو یہ سب کچھ دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔عورتوں کوایک جانب مبینہ ناجائز جنسی مراسم پر سنگسار کررہے ہیں اور دوسری جانب انھیں اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لیے باندیاں بنا رہے ہیں۔کم سن بچوں کو لڑائی کےلیے بھرتی کررہے ہیں۔

شام کے شہر الرقہ سے راہ فرار اختیار کرنے والے ایک شخص نے تحققیات کاروں کو بتایا ہے کہ اس نے عوامی چوک میں ایک شخص کو لوٹنے کے الزام میں سزا کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔دوافراد نے اس ملزم کو بڑے زور سے پکڑا تھا۔تیسرے شخص نے اپنا ہتھیار نکالا اور چوتھے نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا تھا۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو ان مبینہ ملزموں یا اپنے مخالفین کو بھیانک انداز میں سزائیں دینے کی ویڈیوز بھی گاہے گاہے جاری کرتے رہتے ہیں۔انھوں نے یرغمال مغربی صحافیوں ،امدادی کارکنوں یا شامی فوجیوں کو ذبح کرنے ،انھیں قطاروں میں کھڑا کرکے اکٹھے گولیاں مارنے اورعورتوں کو سنگسار کرنے کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔ گذشتہ ہفتے انھوں نے تین شامی فوجیوں کو اجتماعی سزا دینے کی ویڈیو جاری کی تھی اور اس نے ان کی سفاکیت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے تھے۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں داعش کا ایک جنگجو ہجوم کو ان تین شامی فوجیوں کے مبینہ جرائم سے آگاہ کررہا ہے اور پھر انھیں روندنے اور ٹھڈے مارنے کی ترغیب دے رہا ہے۔اس ہجوم میں عام لوگ بھی ہیں اور داعش کے نقاب پوش جنگجو بھی نظر آرہے ہیں۔داعش کے اس جنگجو کے اعلان کے بعد مجمع تینوں شامی فوجیوں پر پِل پڑتا ہے۔لوگ انھیں ٹھڈے مار مار کر ادھ موا کردیتے ہیں۔جب ان کی جان نکل جاتی ہے تو پھر جنگجو ان کی لاشوں کو تین موٹرسائیکلوں کے پیچھے باندھ کر ایک سڑک پر گھماتے ہیں۔

شامی فوجیوں کے بھیانک قتل کا یہ واقعہ بظاہر مشرقی شہر الرقہ میں رونما ہوا ہے۔یہ شہرشام میں داعش کی حکومت کا دارالحکومت ہے۔داعش نے عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ کرکے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے ستمبر کے آخر سے شام میں داعش پر فضائی حملے شروع کررکھے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی چیرہ دستیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں