امریکا کے تاریخی کلیسا میں نماز جمعہ کا اہتمام

بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی منفرد کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین المذاہب ہم آہنگی کی عالمی مساعی باہمی بات چیت اور مکالمے کی حد تک رہی ہیں لیکن امریکا میں کل جمعہ کے روز اس کی ایک منفرد کوشش اس وقت دیکھنے میں آئی جب واشنگٹن میں قائم مسیحی برادری کے ایک تاریخی مرکزی چرچ" نیشنل کیتھڈرل" میں باضابطہ طورپر نماز جمعہ کا اہتمام کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چرچ کی انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی چرچ میں نمازجمعہ کے اہتمام کی اجازت دی گئی تھی تاہم اس کی تیاری میں کچھ وقت لگا۔ چرچ میں نماز جمعہ کے اہتمام کے وقت سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود احتجاج کی اکا دکا آوازیں بھی سنائی دیں۔ ایک خاتون غالبا اس کا تعلق ریاست میشی گن سے تھا نماز جمعہ کے وقت چرچ کے باہر پہنچی اور بلند آواز میں یہ کہہ کر احتجاج کیا کہ"ہمارے چرچ سے نکل جاؤ"۔ بعد ازاں پولیس نے اسے وہاں سے ہٹا دیا۔

چرچ میں نماز جمعہ کی امامت اور خطابت کے فرائض جنوبی افریقا کے امریکا میں متعین سفیر ابراہیم رسول سفیر نے انجام دیئے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے دین حنیف میں مذہبی آزادیوں پر روشنی ڈالی اور انتہا پسندانہ نظریات کی مذمت کے ساتھ انہیں پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ "دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر زمین کے لیے لڑتے، صحافیوں کے گلے کاٹتے، معصوم شہریوں کو نہایت بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارتے اور ہراس شخص کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں جوان کے ساتھ نہیں ہے"۔

خیال رہے کہ واشنگٹن کے نیشنل کیتھڈرل چرچ میں نماز جمعہ کے اہتمام میں سفیر موصوف کی مساعی بھی شامل ہیں۔ تاہم عیسائی پادری کانون جینا کامیبل کی چرچ میں نماز جمعہ کی آمادگی کے ساتھ دالاس میں مسلمانوں کی نمائندہ فاؤنڈیشن، اسلامک، امریکا تعلقات کونسل، اسلامی امور کونسل کے اور جماعت مسجد الامہ کا تعاون بھی حاصل رہا۔

نیشنل کیتھڈرل کے عیسائی پادری نے چرچ میں مسلمانوں کے مذہبی اجتماع کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ چرچ تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے عبادت کی جگہ ہے۔ انہوں‌ نے مزید کہا کہ ہم نے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لیے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم سب ایک ہی پروردگار کی عبادت کرتے ہیں۔ نیشنل کیتھڈرل میں نماز جمعہ کی ادائی سے مسلم۔ مسیحی برادریوں کے مابین مفاہمت کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں