انڈونیشی دارالحکومت میں عیسائی گورنر کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کے گنجان آباد دارالحکومت جکارتہ میں ایک عیسائی کو گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

باسوکی جحاجا پرناما گذشتہ پچاس سال میں جکارتہ کے پہلے مسیحی گورنر ہیں۔ان کے تقرر کے خلاف سخت گیر مسلمانوں نے احتجاج کیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ گورنر کا عہدہ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے اور اس پر کسی مسلم ہی کو مقرر کیا جاسکتا ہے۔

گورنر پرناما چینی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔جکارتہ میں ایوان صدر میں بدھ کو منعقدہ ایک تقریب میں انڈونیشیا کے صدر جوکوجوکوئی وڈوڈو نے ان سے حلف لیا۔انھوں نے بائبل پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔ان سے پہلے خود صدر وڈوڈو جکارتہ کے گورنر تھے اور پرناما ان کے نائب گورنر تھے۔

باسوکی جحاجا پرناما بدعنوانیوں اور سرخ فیتے کے خلاف جدوجہد میں شاندار ریکارڈ کے حامل ہیں اور ان کی انہی خوبیوں کی بنا پر صدر نے انھیں ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی کے شہر کا گورنر مقرر کیا ہے حالانکہ ان کے خلاف مسلم گروپ احتجاجی مظاہرے کرتے رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں