.

"شامی پناہ گزین بچے عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری"

سویڈن کی ملکہ عالیہ سیلفیا کا 'العربیہ' کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے ممبر ممالک میں سویڈن کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کسی بھی دوسرے ملک یورپی ملک سے زیادہ مستحکم اور دوستانہ ہیں۔ سویڈن کی اسی عرب اور مسلمان دوست پالیسی کا اظہار حال ہی میں اسٹا کہوم کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان سے بھی ہوتا ہے۔

حال ہی میں سویڈن کی ملکہ عالیہ "سیلفیا" نے ‘العربیہ’ نیوز کو ایک تفصیلی انٹرویو بھی دیا جس میں‌ انہوں‌ نے شام میں‌ جاری خانہ جنگی سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد بالخصوص بچوں کی بہبود پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پناہ گزین شامی بچوں کی دیکھ بحال عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ سویڈش حکومت بھی جنگ سے متاثرہ بچوں کی بہبود کے لیے حتی الامکان معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

ملکہ عالیہ کا مختصر سوانحی خاکہ

سویڈن کی ملکہ "سیلفیا" کے والد جرمن اور والدہ برازیل سے تعلق رکھتی تھیں۔ سیلفیا کی پیدائش 70 برس قبل ہوئی۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز میونخ میں ارجنٹائن کے قونصل خانے میں ملازمت سے کیا کیونکہ انہیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

سنہ 1972ء میں میونخ اولمپک مقابلوں کے دوران سیلفیا کا تعارف اس وقت کے سویڈش ولی عہد شہزادہ کارل گوسٹاؤ سے ہوا اور دونوں ایک دوسرے کی محبت کے اسیر ہو کر رہ گئے۔ شہزادہ گوسٹاؤ سیلفیا سے شادی کے خواہاں تھے مگر ان کے دادا شاہی خاندان سے باہر کسی شہزادے کی شادی کے حامی نہیں تھے جس کی بناء پر چار سال تک دونوں میں رسمی دوستی کے سوا تعلق مزید آگے نہ بڑھ سکا۔ تاہم دادا کی وفات کے بعد شہزادہ گوسٹاؤ کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع مل گیا۔ شادی کے بعد ان کے ہاں تین بچے ہوئے۔ ان میں ایک بیٹی شہزادی ویکٹوریا کو ولی عہد بھی نامزد کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بہبود اطفال پروگرام

سویڈن کی ملکہ سیلفیا کا تعارف تیسرے بڑے یورپی ملک کے فرمانروا کی اہلیہ سے زیادہ خدمت خلق میں سرگرم ایک سماجی کارکن کے طور پر مشہور رہا۔ انہوں ‌نے اپنے شوہر کارل گوسٹاؤ سے مل کر بہبود اطفال فورم کی بنیاد رکھی جسے بعد ازاں ایک بین الاقوامی فورم میں تبدیل کر دیا گیا۔ بیرون ملک اس فورم کی پہلی تقریب متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں شہزادی ھیا بنت الحسین کی میزبانی میں منعقد کی گئی۔

العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ملکہ سیلفیا نے کہا کہ انہوں نے اپنے شوہر سے مل کر پانچ سال قبل بہبود اطفال فورم کی بنیاد رکھی تھی۔ اس فورم کے قیام کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے موثر مہم چلانا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران بہبود اطفال فورم کی سرگرمیاں اسٹاک ہوم تک ہی محدود رہی ہیں لیکن اب انہیں دوسرے ملکوں سے بھی اس کی میزبانی کے لیے دعوتیں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں بچوں کے حقوق کے لیے ہرملک میں کام دیکھنا چاہتے ہیں۔

شامی پناہ گزینوں کے بچوں کی مشکلات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ملکہ سیلفیا کا کہنا تھا کہ "ہمیں شامی پناہ گزینوں کے بچوں کے مسائل کو سمجھنا ہو گا۔ وہ نہایت کٹھن زندگی گذار رہے ہیں۔ وہ مسلسل تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا دفاع اور عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

فلسطینی ریاست کی حمایت

سویڈن کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے میں یورپی ممالک میں سبقت پر اسرائیلی ناراضی اپنی جگہ مگر سویڈش ملکہ فلسطینی ریاست کی حمایت پر فخر کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سویڈن کے عرب ممالک کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیں مگر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا معاملہ عرب دوستی کا نہیں بلکہ انسان دوستی کا تقاضا ہے۔

'العربیہ' کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سویڈن تمام مذاہب، ثقافتوں اور مختلف عقاید کے پیروکاروں کا احترام کرتا ہے۔ ہمارے ہاں یہودیوں کے معابد، عیسائیوں کے چرچ اور مسلمانوں کی مساجد ہیں جنہیں یکساں احترام دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں بڑی تعداد میں عرب اور مسلمان باشندے آباد ہیں۔ میں حالیہ پناہ گزینوں کی بات نہیں کر رہی بلکہ میری مراد سنہ 1960ء اور 1970ء میں سویڈن میں آنے والے عرب باشندے ہیں"۔

سویڈن میں پہلی اذان

سویڈن میں ایک سال قبل بنائی گئی ایک نہایت خوبصوت مسجد کے دورے اور مسجد میں پہلی اذان کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ملکہ سیلفیا کا کہنا تھا کہ اسٹاک ہوم میں تعمیر کی گئی جامع مسجد فن تعمیر کا ایک نیا شاہکار ہے۔ میں اور بادشاہ سلامت کارل گسٹاؤ دونوں اس مسجد کی زیارت کرنے گئے تھے اور ہم نے مسجد کی میناروں سے بلند ہوتی اذان بھی سنی۔

عرب حکمرانوں سے تعلقات

ملکہ سیلفیا پچھلے 38سال سے سویڈن کے پایہ تخت کی طاقت ور ملکہ ہیں۔ چار عشروں پرمحیط عرصے میں ان کے کئی عرب اور مسلمان حکمران خاندانوں کے ساتھ بھی دوستانہ مراسم قائم ہوئے۔

اسی سوال کے جواب میں انہوں ‌نے کہا کہ کئی عرب حکمران خاندانوں کے ساتھ ہماری گہری دوستی ہے۔ ان میں اردن کے شاہ عبداللہ خاندان کا نام خاص طور پر شامل ہے۔ ملکہ رانیا میری سہیلی ہیں۔ اسی طرح ملکہ نور، شہزادی ھیا بن الحسین سمیت کئی دوسری اہم عرب خواتین کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر ہمیں فخر ہے۔

سعودی عرب کا دورہ

ملکہ سیلفیا نے بتایا کہ ایک سال قبل ہم سعودی عرب کے دورے پر ریاض بھی گئے۔ یہ نہایت ایک مفید دورہ تھا۔ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے جدہ میں ہماری خاطر مدارت کی حد کر دی۔ سعودی عرب کے دورے کے دوران ہم کئی جامعات میں طلباء سے بھی ملاقاتیں کیں۔ شاہ عبداللہ کا سویڈن کے بارے میں جذبہ خیر سگالی ہمارے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔

سوشل میڈیا کی اہمیت کا اعتراف

ملکہ سیلفیا نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو میں معاشری روابط کی ویب سائیٹس کی اہمیت کا اعتراف کیا اور کہا کہ سوشل میڈیا روابط کے نہایت مفید اور سحر انگیز ذرائع بن چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیس بک پر میرا اپنا ایک خاص صفحہ ہے۔ اس کے علاوہ میں نے ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ "یو ٹیوب" پر بھی اکاؤنٹ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے حکمراں خاندان ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔