.

عورت فطرتاً مرد کے ہم پلّہ نہیں:طیب ایردوآن

خواتین کے حقوق کےعلمبردار مادریت کی قدر کو سمجھنے سے قاصر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ''عورت فطری طور پر مرد کے مساوی نہیں ہے اور صنفی مساوات کی بات فطرت کے اصولوں کے منافی ہے لیکن خواتین کے حقوق کےعلمبردار مادریت کی قدر کو سمجھنے سے قاصر ہیں''۔

انھوں نے یہ باتیں استنبول میں سوموار کو ترک خواتین کی ایک تنظیم کے زیراہتمام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''خواتین کی کمزورفطرت کا مطلب یہ ہے کہ انھیں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں کیا جاسکتا ہے۔آپ ایک عورت کو مرد کی طرح ہر کام پہ نہیں لگاسکتے ،جیسا کہ ماضی میں کمیونسٹ ممالک میں ہوتا رہا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''خواتین کے ساتھ قانون کی نظر میں مساوی سلوک کیا جانا چاہیے لیکن معاشرے میں ان کے مختلف کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے''۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین سے وہ کام نہیں لیے جاسکتے جو مرد کرتے ہیں۔اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ انھیں کسی اور پھاوڑا دے کر کھیتوں میں بھیج دیا جائے اور کہا جائے کہ وہ زمین کی گوڈی کریں۔

ترکی کے اسلام پسند صدر نے کہا کہ''ہمارے دین نے خواتین کو ایک درجہ عطا کیا ہے اور یہ درجہ کیا ہے،یہ ماں کا درجہ ہے۔مادریت ایک مختلف چیز ہے اور یہ سب سے بڑا مرتبہ ہے۔ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔اب کچھ لوگ اس کو سمجھتے ہیں اور کچھ نہیں۔آپ یہ بات عورت پن کے علمبرداروں کو نہیں سمجھا سکتے کیونکہ وہ مادریت کو تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں اور وہ اس جھمیلے میں پڑنا ہی نہیں چاہتے ہیں''۔

واضح رہے کہ رجب طیب ایردوآن مسلم اکثریتی مگر سیکولر ترکی میں اسلامی اقدار کے احیاء کے علمبردار ہیں اور ان کے ناقدین انھیں معاشرے میں اسلامی قدروں کی ترویج ونفاذ پر تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں لیکن وہ اس کے باوجود اگست میں منعقدہ براہ راست صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہونے میں کامیاب رہے تھے اور اسلامی اقدار وروایات کے حق میں بیانات سے بھی ان کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔

اب وہ خواتین کو اسلامی قانون کے مطابق حقوق دینے کے علمبردار ہیں اور مغرب کی طرح عورتوں کو زندگی کے ہرشعبے میں دھکیلنے کے حق میں نہیں ہیں جبکہ یورپی یونین ان کی حکومت پر زوردے رہی ہے کہ وہ ترکی میں صنفی مساوات کی بہتری کے لیے اقدامات کرے کیونکہ ترکی یورپی یونین کی رکنیت کا امیدوار ہے اور وہ گذشتہ دس سال سے اس مغربی تنظیم سے رکنیت کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا بھی یہ کہنا ہے کہ ترکی میں خواتین کے کم تعداد میں ملازمتیں کرنے کی وجہ سے بھی ملک تیزرفتار ترقی نہیں کررہا ہے اور افرادی قوت میں خواتین کا کم کردار ملکی ترقی کی راہ میں حائل ہے۔

ترکی میں خواتین کے حقوق کی علمبردار ایک تنظیم قادر کی صدر گونل قرحان اوغلو نے صدر طیب ایردوآن کی تقریر کے ردعمل میں کہا ہے کہ ''ہم یہ بات بخوبی جانتی ہیں کہ خواتین جسمانی طور پر مردوں کے برابر نہیں ہیں لیکن برابری سے مراد حقوق ،درجے اور مواقع میں برابری اور مساوات ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''صدر نے عورت کی صرف ماں ہونے کے ناتے سے تعریف کی ہے۔یہ ان تمام خواتین کے خلاف ایک قسم کا امتیاز ہے،جن کے بچے نہیں ہیں اور وہ ہمیشہ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں''۔