.

ترکی: حجاب مخالف پروفیسر کو جیل بھیج دیا گیا

محجب طالبہ کوجامعہ میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر دوسال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایک معروف پروفیسر کو حجاب اوڑھنے والی ایک طالبہ کو جامعہ میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

ایج یونیورسٹی میں آسٹروفزکس کے سابقہ پروفیسر رینان پیک اونلو کے وکیل مراد فتح اونلو نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے موکل کو 2012ء میں سرپوش اوڑھنے والی ایک طالبہ کو اس کے تعلیم کے آئینی حق سے محروم رکھنے کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔پروفیسر صاحب نے اس طالبہ کے اپنی فیکلٹی میں داخلے پر پابندی عاید کردی تھی۔

وکیل نے مزید بتایا ہے کہ پروفیسر پیک اونلو کو مغربی شہر ازمیر کی جیل میں قید کاٹنے کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔وہ ترکی میں سرپوش اوڑھنے والی کسی بھی طالبہ کو تعلیم سے روکنے کے الزام میں یہ قید کاٹنے والے پہلے شخص ہیں۔

جیل جانے سے قبل چونسٹھ سالہ پروفیسر رینان پیک اونلو نے کائنات اور ارتقاء کے موضوع پر لیکچر دیا تھا۔ان کے سامعین میں ان کے سابقہ طلبہ ،ساتھی اور لیبر یونینوں کے ارکان شامل تھے۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ''یہ ہمارا آخری لیکچر نہیں ہے۔ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔یہ اختتام نہیں ہے''۔اس کے بعد وہ آنسوؤں سے رو دیے تھے اور بھرے ہال میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔

ترک اخبار حریت کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر ہال میں جمع افراد نے ان کے حق میں نعرے بازی شروع کردی اور وہ کَہ رہے تھے''پروفیسر رینان اکیلے نہیں ہیں''۔''اے کے پی کی آمریت کو زوال آئے گا''۔وہ حکمران جماعت انصاف اور ترقی پارٹی کا حوالہ دے رہے تھے اور اس کے خلاف نعرے بازی کرر ہے تھے۔

پروفیسر پیک اونلو نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے تو کسی طالب علم یا طالبہ کو جامعہ میں داخلے یا جماعت میں حاضری سے نہیں روکا تھا بلکہ وہ صرف ترک قانون کے مطابق جامعہ کے حکام کے ایسا کوئی معاملہ رپورٹ کیا کرتے تھے۔

انھوں نے سی این این ترک ٹیلی ویژن سے فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنا فرض نبھایا تھا اور جو کچھ بیان کیا ہے،یہی کچھ کیا تھا۔ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ''وہ اس فیصلے کو یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں بھی لے جائیں گے۔یہ ایک سیکولر اور آئینی ریاست میں انہونا فیصلہ ہے''۔

پروفیسر پیک اونلو کے خلاف اسی قسم کے الزامات کے تحت قائم دواور مقدمے بھی چلائے جارہے ہیں۔اگر وہ قصوروار گردانے گئے تو انھیں بارہ سال تک جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔انھیں جامعہ میں ایک محجب طالبہ کو پیٹنے کے الزام میں معطل قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی لیکن انھوں نے اس الزام کو من گھڑت قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ ترکی کے اعلیٰ تعلیمی بورڈ نے 2010ء میں جامعات کے کیمپسز میں مسلم طالبات پر حجاب اوڑھنے پر عاید پابندی ختم کردی تھی۔تاہم بعض جامعات نے بدنام زمانہ پابندی کو برقرار رکھا تھا اور اس ضمن میں حکم نامے کو چیلنج کیا تھا۔

ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کے حامی اسلام پسندوں اور سیکولر طبقات کے درمیان ایک عرصے سے خواتین کے حجاب اور دوسری اسلامی اقدار کے حوالے سے تندوتیز بحث ومباحثہ جاری ہے جبکہ اسلامی جڑیں رکھنے والی آق پارٹی کی حکومت کو ترک معاشرے میں اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اقدامات پر تنقید کا سامنا ہے۔ترک پارلیمان نے گذشتہ سال سول ملازمتیں کرنے والی خواتین پر حجاب اوڑھنے پر عاید پابندی ختم کردی تھی اور ستمبر میں ہائی اسکولوں میں بھی طالبات کو حجاب اوڑھنے کی اجازت دے دی تھی۔