.

جی سی سی کا مشترکہ نیول فورس کی تشکیل پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل ’’جی سی سی‘‘ نے خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے مشترکہ نیول فورس تشکیل دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل خلیج تعاون کونسل کا مشترکہ پولیس فورس قائم کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'جی سی سی' وزراء داخلہ کا 33 واں سالانہ اجلاس کویت کی میزبانی میں ہوا، جس میں تنظیم کے تمام رکن ممالک کے وزراء داخلہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں مندرجہ ذیل معاملات پر تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی:

*۔۔۔ ج سی سی وزارت ہائے داخلہ میں سیکیورٹی معاہدہ جس کے بارے میں اب تک وزارت داخلہ کے زیر انتظام اسسٹنٹ انڈر سیکرٹریز کی جانب سے کسی قسم کی ترمیم نہیں کی گئی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

*۔۔۔ مشترکہ خلیجی پولیس فورس کا قیام اور متحدہ عرب امارات میں اس کے ہیڈ کواٹرز پر تبادلہ خیال۔

*۔۔۔ وزارت ہائے داخلہ کے آپریشن کنٹرول روم میں یونیفائیڈ مواصلاتی سسٹم یا فائبر آپٹک سسٹم کی تنصیب۔

*۔۔۔ دہشت گردی کے خلاف تعاون، معلومات کا تبادلہ اور خلیج میں دہشت گردوں کے مالی سوتوں کی بندش پر غور۔

*۔۔۔ خلیجی ریاستوں کے درمیان ٹریفک اور شہری دفاع کے لیے سیکیورٹی کمیٹیوں کا قیام۔

العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق اجلاس کےشرکاء نے خلیجی ممالک کی سطح پر مشترکہ بحری فورس کی تشکیل پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان ملک کویت کے وزیر داخلہ الشیخ محمد خالد الصباح نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیجی خطہ لمحہ موجود کے نازک ترین دور سے گذر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت خطے کو پاک کریں۔ اس مقصد کے تمام ممالک غیر مشروط تعاون کریں اور اپنے وسائل کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں دہشت گردی کے فروغ کے لیے جدید ٹکنالوجی کے استعمال کے روک تھام کے لیے حکومتوں کی سطح پر جدید وسائل کے استعمال کی بھی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو دہشت گردوں اور انتہا پسند گروپوں کے بہکاوے سے روکا جاسکے۔

الشیخ خالد الصباح نے محرم الحرام کے دوران سعودی عرب میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی اور دہشدت گردی کے خلاف جنگ میں ریاض کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں کویت سیکیورٹی فورسز نےدہشت گردوں کی کئی سازشوں کو ناکام بناتے ہے انتہا پسندوں کو حراست میں لیا ہے۔ اگر یہ سازشیں کامیاب ہو جاتیں تو خلیج تعاون کونسل کے کئی دوسرے رکن ممالک بھی ان سے متاثر ہوتے۔

مشترکہ مفادات کے تحفظ پر زور

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بحرین کے وزیر داخلہ جنرل الشیخ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے کہا کہ اگر ہم خلیجی خطے کو امن وآشتی کا گہوارا بنانے کے خواہاں ہیں تو ہمیں مل کر اس کے استحکام اور مشترکہ مفادات کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک خلیجی کے مفادات کے لیے خطرہ نہیں بلکہ یہ تمام خلیجی ریاستوں کے لیے زندہ خطرہ ہے۔ فرقہ واریت اور انتہا پسندی سے خلیجی اقوام کو تقسیم کرنے اور انہیں کمزور کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ خلیجی ممالک میں فرقہ واریت کو عام کرنے کے لیے عالمی سازشی عناصر کا بھی ہاتھ ہے جو خلیجی ممالک کے اقوام پر اپنی مرضی کے خیالات اور نظریات مسلط کرکے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جرائم پیشہ عناصر کے تعاقب کی کامیاب مساعی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے کہا کہ کارپویشن کے رکن ممالک کی مشترکہ مساعی سے خطے میں جرائم پیشہ عناصر کے تعاقب میں خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں اور اس کے واضح اثرات بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گرد گروپ اب بھی خلیجی ممالک کی سلامتی اور استحکام کے لیے بدستور خطرہ ہیں اور ان کی بیخ کنی کے لیے تمام ممالک کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ الزیانی کا کہنا تھا کہ جی سی سی کی مشترکہ پولیس فورس کے قیام سے خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔