.

"قرآن اٹھا کر احتجاج مصری فوج کو بدنام کرنے کی سازش ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سابق فوجی سربراہ فیلڈ مارشل ریٹائرڈ عبدالفتاح السیسی کی حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ مل کر بھی ملک میں احتجاجی مظاہروں کی روک تھام میں ناکام رہے ہیں۔

تازہ احتجاج کی کال میں اخوان المسلمون کے ساتھ ساتھ ماضی میں حکومت کی بہی خواہ سمجھے جانے والی سلفی مسلک کی جماعتوں نے بھی دی ہے اور کل جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج میں قرآن پاک کے نسخے ہاتھوں میں اٹھا کر حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

دوسری طرف مصری حکومت احتجاج کی تازہ لہر بالخصوص ہاتھوں میں مصاحف قرآنی اٹھا کر احتجاج کو حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی سازش سے تعبیر کر رہی ہے۔

العبربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری سیکیورٹی کے امور کے ماہر میجر جنرل ماھر صدیق نے انکشاف کیا ہے کہ 28 نومبر بروز جمعۃ المبارک کو اخوان المسلمون اور سلفی گروپوں کی جانب سے ہاتھوں میں قرآن پاک کے نسخے اٹھا کر احتجاج کا مقصد سیکیورٹی اداروں، پولیس اور فوج کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون نے ایک سوچے سمجھے منصوبے تحت احتجاجی مظاہروں کے دوران قرآن پاک اٹھا کر شرکت کی اسکیم تیار کی ہے تاکہ پولیس کی مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران قرآن پاک زمین پر گریں اور اخوانی عناصر اپنے کیمروں کی مدد سے اس کی تصاویر بنا کر بڑے پیمانے پر پھیلائیں تاکہ یہ تاثر جائے کہ مصری سیکیورٹی فورسز قرآن پاک کے نسخوں کو [نعوذ باللہ] پائوں تلے روندتی رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر صدیق نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے اخوان المسلمون اور سلفیوں کے اس ’فسادی‘ طریقہ کار سے نمٹنے کے لیے فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو خصوصی تربیت دینا شروع کر دی ہے تاکہ احتجاجی مظاہروں کے دوران قرآن پاک کے تقدس کو قائم رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر احتجاج کرنے والے افراد کی گرفتاری اور انہیں سخت ترین سزائیں دے کر آئندہ کے لیے اس کا سدباب کیا جا سکے۔

مصری سیکیورٹی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون اور اس کی حامی بعض دیگر گروپ پچیس جنوری کو انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہیں اس مقصد کے لیے کئی دوسرے ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کی معاونت بھی حاصل ہے اور وہ ملکی بھگت کے تحت مصر میں انارکی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر کے سیکیورٹی اداروں کو دانستہ طور پر شہریوں سے الجھانے اور طاقت کے استعمال پر مجبور کیا جا رہا ہے تاکہ جنرل سیسی کی حکومت کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں مصری عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے اخوان اور سلفیوں کے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ کسی گروپ کو اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے بیرونی خفیہ اداروں کی معاونت سے ملک کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تشدد کا ہر حربہ پوری قوت سے کچل دیاجائے گا۔

جیل توڑنے سے متعلق اہم انکشافات

میجر جنرل ماہر الصدیق نے انکشاف کیا کہ 28 جنوری 2011ء کو مصر میں قاہرہ کی وادی النطرون جیل توڑنے کے واقعے میں اخوان المسلمون، فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ملوث تھیں۔ ان جماعتوں کے ارکان کے پاس جیل کے نقشہ جات اور دیگر تفصیلات تھیں۔ یہاں تک کہ جیل کی کھڑکیوں، دروازوں، دیواروں کے ساتھ انہیں یہ علم بھی تھا کہ جیل میں کہاں کہاں پر اخوانی قید کیے گئے ہیں؟

انہوں نے انکشاف کیا کہ جس تعمیراتی فرم نے قاہرہ کی جیل تیار کی تھی اس نے یہ نقشے اخوان المسلمون اور اس کی حامی تنظیموں کو فراہم کیے تھے۔ اس کے عوض اخوان المسلمون نے اس کمپنی سے وابستہ چار اہم شخصیات کو حکومت میں اہم عہدے دینے کا وعدہ کیا۔ اسے عہد وپیمان کے تحت ڈاکٹر ھشام قندیل کو وزیر اعظم بنایا گیا جبکہ تین کو وزارت موصلات، پلاننگ اور ریلویز کی وزارتیں دی گئیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حماس کے کارکن غزہ کی پٹی سے گاڑیوں کے ذریعے وادی النطرون اور المرج جیلوں پر رات کی تاریکی میں حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے جیل پر راکٹ سے چلائے جانے والے گرینڈیز، مشن گنوں اور دیگر خودکار بندوقوں کے ذریعے حملہ کر کے جیلیں توڑیں۔ حماس کے عناصر نے النطرون جیل کی ایک دیوار بارود کے ذریعے اڑائی اور اس کے مرکزی داخلی گیٹوں پر بھی حملے کیے۔ جیل میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے وہاں پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کی دھمکیاں دیں اور بندوق کی نوک پر پچیس ہزار قیدیوں کو چھڑا کر لے گئے۔ ان میں 700 قیدی موت کی سزا پر عملدرآمد کے منتظر تھے۔

ماھر صدیق نے بتایا کہ سابق صدر حسنی مبارک کی کمزور انتظامی پالیسیوں کے سبب اخوانی قیادت نے جیل انتظامیہ کے ساتھ بھی ساز باز کر رکھا تھا۔ میں ان تمام واقعات کا عینی شاہد تھا۔ جیل میں بند اخوانی رہ نمائوں نے اپنی بیمگات سے خلوت کا راستہ بھی ہموار کر لیا تھا اور اسی خلوت کے نتیجے میں کئی اخوانی رہ نمائوں کی بیگمات جیلوں میں حاملہ ہوئیں۔ ان میں جماعت کے نائب مرشد عام خیرت الشاطر سمیت کئی دوسرے اہم رہ نما سرفہرست ہیں۔