.

عراق:23 ہزارگھوسٹ فوجی ایک ارب ڈالرز ڈکار گئے

گذشتہ پانچ سال سے قومی خزانے سے تن خواہیں وصول رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں قریباً تئیس ہزار جبری ریٹائر کیے گئے گھوسٹ فوجی اور افسر گذشتہ پانچ سال کے دوران تن خواہوں کی مد میں ایک ارب ڈالرز ہضم کر گئے ہیں۔

اس بات کا انکشاف عراقی پارلیمان کی ایک تحقیقاتی کمیٹی کے رکن مشعن الجبوری نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کیا ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ ''میں ان ریٹائر خلائی مردوں سے متعلق ایک خطرناک فائل کو دیکھ رہا ہوں۔ان میں تئیس ہزار ایسے فوجی تھے جو گذشتہ چار،پانچ سال کے دوران غیر قانونی طور پر قومی خزانے سے رقوم وصول کرتے رہے تھے اور ان کی تن خواہوں کی کل رقم ایک ارب ڈالرز سے تجاوز کر گئی تھی''۔

عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے گذشتہ اتوار کو تحقیقات کے نتیجے میں فوج میں پچاس ہزار گھوسٹ فوجیوں کی فہرست کا پتا چلانے کا انکشاف کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ملک بھر میں بدعنوانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دائرہ کار کو بڑھا رہے ہیں۔ان کے ترجمان رفید جبوری کے بہ قول:''گذشتہ چند ہفتوں کے دوران وزیراعظم نے گھوسٹ فوجیوں کا پتا چلانے کے لیے کریک ڈاؤن کیا ہے اور وہ مسئلے کی جڑ تک پہنچ گئے ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ تن خواہوں کی ادائی کے دوران فوجیوں کی گنتی کی گئی تھی اور گھوسٹ فوجیوں کی اسامیوں کو ختم کردیا گیا ہے۔تاہم مسٹر جبوری نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ جن خلائی فوجیوں کے اعدادوشمار پیش کررہے ہیں،وہ مذکورہ بالا پچاس ہزار گھوسٹ فوجیوں کی فہرست میں شامل ہیں یا ان سے الگ گھوسٹ فوجیوں کی یہ اضافی تعداد ہے۔

عراقی وزیراعظم نے گذشتہ سوموار کو وزارت داخلہ کے چوبیس عہدے داروں کو بدعنوانیوں اور فرائض سے غفلت کے الزام میں جبری ریٹائر کردیا تھا۔ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا تھا کہ وزارت داخلہ کے ان عہدے داروں کو برطرف کرنے کا اقدام عراق کے سکیورٹی اداروں میں اصلاحات اور تعمیرنو کے لیے کوششوں کے ضمن میں کیا گیا ہے۔

حیدرالعبادی ستمبر میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو بدعنوانیوں اور دوسرے الزامات کے تحت برطرف یا جبری ریٹائر کرچکے ہیں۔وہ اپنے پیش رو وزیراعظم نوری المالکی کے برعکس عراق کے اہل سنت اور اہل تشیع کو اکٹھا کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔